تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 207 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 207

تذكرة المهدى 207 اقدس علیہ السلام کا فرمانا صحیح و درست ہوا۔جب میں حضرت اقدس سے مل کر اور شرف صحبت حاصل کر کے واپس سر سادہ آیا تو میں نے لوگوں سے بیان کیا کچھ مصدق ہوئے اور بہت سے حیرت زدہ اور بہت سے مکذب ہو گئے لیکن میری بیوی نے صدق دل سے تصدیق کی۔ایک ہفتہ کے بعد میری بیوی کہنے لگی کہ آج رات میں نے ایک خواب ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک بزرگ جن کے سرد ریش میں مهندی لگی ہوئی ہے اور بال سفید ہیں مونڈ ہوں تک لٹکتے ہیں اور درمیانہ قد اور دہرا بدن ہے گندمی رنگ ہے وہ ایک مکان میں کھڑے ہیں اور دنیا میں چاروں طرف قتل عام ہو رہا ہے اور کہیں آگ لگ رہی ہے اور کسی جگہ طوفان آرہا ہے اور کسی طرف تلواریں اور نیزے چل رہے ہیں۔اور روئے زمین پر کہیں امن کی جگہ نہیں لوگ غل مچارہے ہیں روتے ہیں اور چلاتے ہیں بچے عورتیں بڑے چھوٹے حیران و پریشان اور مضطرب ہیں اور میں بھی حیران کھڑی ہوں اور دل میں کہتی ہوں کہ الہی کدھر جاؤں کوئی جگہ امن کی نہیں ملتی میری نظر اس مکان کے بالاخانہ پر پڑی وہ بزرگ مجھے دیکھنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹی اوپر آجاؤ میں یہ غنیمت سمجھ کر کہ کچھ تو امن کا مکان ملا او پر بالا خانہ پر اس بزرگ کے پاس گئی انہوں نے فرمایا کہ بہت اچھا ہوا کہ تم یہاں آگئیں دنیا میں سوائے ہمارے اب کوئی جگہ امن کی نہیں ہے تم بھی رہو میں نے یہ بات اس بزرگ کی زبانی سنی خدا کا شکر کیا پھر میری آنکھ کھل گئی بتلاؤ وہ کون بزرگ تھے اور یہ کیا بات ہے میں نے کہا یہ حلیہ یہ صورت یہ لباس اور یہ جیت جو تم نے بیان کی ہے حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی کی ہے اور یہ مکان بھی وہی ہے جو میں دیکھ کر آیا ہوں کہنے لگی شاید وہی ہوں اور شاید دنیا میں پھر غد ر پڑ جاوے اور بے امنی ہو جاوے اور قادیان میں ہی امن ملے چلو وہیں چلے چلیں میں نے کہا کہ تم عورت ہو عورتوں کے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے خیال ہوا کرتے ہیں اب غدر