تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 161 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 161

تذكرة الندى 161 کہ میں بھی کچھ تقریر زبانی کروں پھر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا که مولوی صاحب کا یہ عقیدہ کسی طرح بھی صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے ناظرین سننے کے لائق یہ بات ہے کہ چونکہ قرآن شریف وحی متلو ہے اور تمام کلام مجید رسول اللہ اللی کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا اور یہ کلام الہی تھا اور حدیث شریف کا ایسا انتظام نہیں تھا اور نہ یہ آنحضرت اے کے زمانہ میں لکھی گئی تھیں اور وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں ہے۔کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی ہیں اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھاوے کہ قرآن شریف کا حرف حرف کلام الہی ہے۔اور جو یہ کلام الہی نہیں ہے تو میری بیوی پر طلاق ہے تو شرعاً اس کی بیوی پر طلاق وارد نہیں ہو سکتا۔اور جو حدیث کی نسبت قسم کھالے اور کہے کہ لفظ لفظ حرف حرف حدیث کا وہی ہے جو رسول اللہ ان کے منہ سے نکلا ہے اگر نہیں ہے تو میری جورد پر طلاق ہے تو بے شک وشبہ اس کی بیوی پر طلاق پڑ جاوے گا یہ حضرت اقدس کی زبانی تقریر کا خلاصہ ہے اس بیان اور تقریر پر اور نیز اس پرچہ تحریری پر جو حضرت اقدس علیہ السلام سناتے تھے چاروں طرف سے واہ واہ کے اور سبحان اللہ کے نعرے بلند ہوتے تھے۔اور یہاں تک ہوتا تھا کہ سوائے سعد اللہ اور مولوی صاحب کے ان کی طرف کے لوگ بھی سبحان اللہ بے اختیار بول اٹھتے تھے دو تین شخصوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ مرزا صاحب جو زبانی بحث نہیں کرتے اور تحریری کرتے ہیں وہ تقریر نہیں کر سکتے۔مگر آج معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کو زبانی تقریر بھی اعلیٰ درجہ کی آتی ہے اور ملکہ تقریر کرنے کا بھی اول درجہ کا ہے اور آپ جو تحریر کو پسند کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ آپ تقریر کرنے میں عاجز ہیں بلکہ اس واسطے کہ تحریر سے حق و باطل کا خوب فیصلہ ہو جاوے اور ر ایک پوری طرح احقاق حق اور ابطال باطل میں تمیز کرلے اور حاضر و غائب پر پورا پورا سچ اور جھوٹ کھل جاوے۔مولوی صاحب اس پر خفا ہوتے اور کہتے