تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 160 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 160

تذكرة المعدي 160 بات پر لڑائی بھی ہو جاتی تھی اور میرے دل سے یہ بات پیدا ہوتی کہ خدا کرے انگریزی سلطنت قائم رہے ان کا بول بالا رہے۔مسلمان بادشاہ آکر ہمیں کیا دے گا یہ چاروں باتیں حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی بیان کی تھیں اور میری بات اور میرے یقین کی تصدیق کی تھی اور فرمایا کہ آج اگر مسلمانوں کی بادشاہت ہوتی تو اس طرح سے ہم کب تبلیغ و اشاعت دین اور مقاصد سلسلہ احمدیہ کر سکتے تھے یہ خدا کا فضل اور رحم ہوا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے پہلے انگریزوں کی سلطنت کو اللہ تعالٰی نے بھیج دیا۔پھر مولوی محمد حسین سے مباحثہ قرار پایا اور بٹالوی سے آغاز مباحثہ دن مباحثہ کا مقرر ہو کر مباحثہ کے لئے مولوی محمد حسین حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر آئے اور ساتھ مولوی محمد حسن اور سعد اللہ نو مسلم اور پانچ سات اور شخص بھی آئے اور ایک سوال لکھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کے آگے رکھ دیا حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کا جواب لکھ دیا اور مجھ سے فرمایا کہ کئی قلم بنا کر میرے پاس رکھ دو اور جو ہم جائیں اس کی نقل کرتے جاؤ چنانچہ میں نقل کرنے لگا اور آپ لکھنے لگے سوال وجواب اسدن کے لکھ لئے گئے تو مولوی محمد حسین نے خلاف عہد زبانی وعظ شروع کر دیا اور بیان کیا کہ مرزا صاحب کا جو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف حدیث پر مقدم ہے یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے بلکہ عقیدہ یہ چاہئے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے اور قرآن شریف کے متعلق مسائل کو حدیث کھولتی ہے اور وہی فیصلہ کن ہے خلاصہ مولوی صاحب کی تقریر کا یہی تھا پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے چونکہ یہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ زبانی تقریر کوئی نہ کرے مولوی صاحب نے اس معاہدہ کے خلاف تقریر کی ہے سو میرا بھی حق ہے حضرت اقدس علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہر روز کئی کئی فلم مجھ سے بنوا کر رکھ لیتے اور جو میں نہ ہو تا تو جیسا قلم ہاتھ میں آجاتا ٹوٹا پھوٹا ویسے سے ہی لکھ لیا کرتے تھے بعض وقت سیاہی نہ ہوتی تو قلم کو سب لگا کر لکھ لیتے تھے۔مشر