تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 661 of 862

تذکار مہدی — Page 661

تذکار مهدی ) 661 روایات سید نا محمودی جماعتوں کا اپنی طرف منسوب کرنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اس بخیل عورت کا یہ کہنا کہ میں نے اور بھاوج نے اکیس روپے دیئے ہیں۔ان چندوں کو نکال کر اگر دیکھا جائے تو جماعتوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ انہوں نے کتنی کوتاہی کی ہے۔بھو کے کیلئے ایک لقمہ کافی نہیں خطبات محمود جلد 25 صفحہ 395 - 396 ) دنیا میں قوموں پر کئی شکلوں میں مشکلات اور کئی صورتوں میں ابتلاء آتے رہتے ہیں مگر ان سب کا جواب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ استقلال اور بہادری سے ایسی مشکلات کا مقابلہ کیا جائے مگر یہ روح تبھی پیدا ہوسکتی ہے جب نوجوان اپنی ذمہ واریوں کو سمجھتے ہوئے ان کے مطابق کام بھی کریں یعنی جتنی زیادہ ذمہ واریاں ہوں اتنا ہی زیادہ کام بھی کیا جائے کیونکہ جب تک اندازے کے مطابق کام نہ کیا جائے وہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوا کرتا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے کہ کسی بھوکے کے منہ میں صرف ایک لقمہ روٹی کا دے دینے سے اس کی بھوک دور نہیں ہو سکتی اور کسی پیاسے کے منہ میں ایک قطرہ پانی ڈال دینے سے اس کی پیاس نہیں رک سکتی۔یعنی جب تک بھوکے کو اتنی غذا نہ مہیا کی جائے۔جس سے اس کا پیٹ بھر سکے یا جب تک ایک پیاسے کو اتنا پانی نہ دیا جائے جس کو وہ سیر ہو کر پی سکے۔اس وقت تک نہ وہ بھوکا اور نہ ہی وہ پیاسا بھوک اور پیاس کی تڑپ کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی صحت قائم یا بحال ہو سکتی ہے۔ایک کپڑی کی مثال الفضل 16 مئی 1961 ء جلد 50/15 نمبر 112 صفحہ 3 | کئی لوگ جب بدلہ لینا چاہتے ہیں تو بد دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا بیڑا غرق ہو تو اچھا ہے۔بلکہ بعض تو مجھے خط لکھتے ہیں کہ فلاں نے ہمیں دکھ دیا ہے دعا کریں کہ اس کا بیڑا غرق ہو۔میں انہیں لکھتا ہوں کہ تمہیں تو اس سے غرض ہے کہ تمہارا فائدہ ہو جائے۔اس بات سے کیا فائدہ کہ دوسرے کا بیڑا غرق ہو مگر وہ اس پر ضرور مصر رہتے ہیں کہ ہم تو تب خوش ہوں گے جب دشمن کا بیڑا غرق ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک کبڑی کی مثال سنایا کرتے تھے کہ اس سے کسی نے