تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 862

تذکار مہدی — Page 662

تذکار مهدی ) 662 روایات سید نا محمودی پوچھا کہ آیا تو یہ چاہتی ہے کہ تیری کمر سیدھی ہو جائے یا باقی لوگ بھی کبڑے ہو جائیں۔تو جیسا کہ بعض طبیعتیں ضدی ہوتی ہیں۔اس نے آگے سے یہ جواب دیا کہ مدتیں گزرگئیں کہ میں کبڑی ہی رہی اور لوگ میرے کبڑے پن پر ہنستے اور مذاق کرتے رہے اب تو یہ سیدھا ہونے سے رہا۔مزہ تو جب ہے کہ یہ لوگ بھی کبڑے ہوں اور میں بھی ان پر ہنس کر جی ٹھنڈا کروں۔اسی طرح کی بعض حاسد طبیعتیں ہوتی ہیں کہ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کی تکلیف دور ہو جائے بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرا تکلیف میں مبتلاء ہو جائے۔حالانکہ اگر نادان سوچیں تو انسان سے ہزاروں غلطیاں روزانہ ہوتی ہیں اور اس کے دل میں بغض اور کینہ کپٹ نہ ہو۔( خطبات محمود جلد 24 صفحہ 94) بچپن کی خواہش کسی قوم کی ترقی سے پہلے اس کے خیالات میں ترقی پیدا ہو جاتی ہے۔چھوٹی چھوٹی قومیں اور ذلیل قومیں معمولی معمولی باتوں پر تسلی پا جاتی ہیں مگر بڑھنے والی قومیں ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہاں ایک چوہڑا تھا جو اصطبل وغیرہ میں اور ہمارے گھر میں کام کرتا تھا۔فرماتے تھے ایک دفعہ بچپن میں ہم نے کھیلتے ہوئے ہمجولیوں سے دریافت کرنا شروع کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے؟ پھر اسی بچپن کی عمر کے لحاظ سے اس سے بھی ہم نے دریافت کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اور کس چیز کو سب سے زیادہ تمہارا دل چاہتا ہے اس نے جواب دیا کہ میرا دل اس بات کو چاہتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بخار چڑھا ہوا ہو، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہو، سردی کا موسم ہو، میں لحاف اوڑھے چار پائی پر لیٹا ہو ا ہوں اور دو تین سیر بھنے ہوئے چنے میرے سامنے رکھے ہوں اور میں انہیں ٹھونگتا جاؤں یعنی ایک ایک کر کے کھاتا جاؤں۔یہ تھی اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش۔کسی سننے والے نے کہا تم نے اس میں بخار کی شرط کیوں لگائی ہے؟ تو اس نے کہا اس لئے کہ پھر مجھے کوئی کام کیلئے نہیں بلائے گا۔کسی فارسی شاعر نے بھی کہا ہے کہ ے فکر ہر کس بقدر ہمت اوست جتنی ہمت کسی فرد میں ہوتی ہے اتنے ہی بلند اس کے خیالات ہوتے ہیں۔خطبات محمود جلد 18 صفحہ 47،46 ) |