تذکار مہدی — Page 620
تذکار مهدی ) 620 روایات سید نا محمود والوں کے مدارج کو بھی بلند فرما انہیں اپنے قرب میں جگہ دے اور انہیں اپنی رضاء کی نعمت سے متمتع فرما۔گویا فرشتوں والا معاملہ آپ نے اپنی جماعت کے تمام افراد سے کیا اور اس طرح سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے حصہ مل گیا۔غرض یہ دعا معمولی نہیں ہوتی۔الفضل 28 اگست 1941 ء جلد 23 نمبر 196 صفحہ 3-2 مطالعہ کتب اور خواجہ کمال الدین صاحب خواجہ کمال الدین صاحب کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کر کے ایک لیکچر تیار کرتے تھے۔پھر قادیان آ کر کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھتے اور کچھ دوسرے لوگوں سے اسی طرح ایک لیکچر مکمل کر لیتے۔پھر اسے لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے اور خوب کامیاب ہوتے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر بارہ لیکچر آدمی کے پاس تیار ہو جائیں۔تو اس کی غیر معمولی شہرت ہوسکتی ہے۔انہوں نے ابھی سات لیکچر تیار کیے تھے کہ ولایت چلے گئے۔لیکن وہ ان سات لیکچروں سے ہی بہت مقبول ہو چکے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک لیکچر بھی اچھی طرح تیار کر لیا جائے کیونکہ وہ خوب یاد ہوتا ہے۔اس لئے اس کا لوگوں پر اچھا اثر ہو سکتا ہے۔پہلے زمانہ میں اسی طرح ہوتا تھا کہ صرف میر کا الگ استاد ہوتا تھا۔نحو میر کا الگ استاد ہوتا تھا۔پکی روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا اور کچی روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا اور چاہئے بھی اسی طرح کہ جو لیکچرار ہوں۔ان کو مضامین خوب تیار کر کے دیئے جائیں اور وہ باہر جا کر وہی لیکچر دیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سلسلہ کے مقصد کے مطابق تقریر میں ہوں گی اور ہمیں یہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہوگا کہ انہوں نے کیا بولنا ہے۔اصل لیکچر وہی ہوں گے۔اس کے علاوہ اگر مقامی طور پر ضرورت ہو تو تائیدی لیکچروں کے طور پر وہ کسی اور مضمون پر بھی بول سکتے ہیں۔(الفضل 7 نومبر 1945 ءجلد 33 نمبر 161 صفحہ 3) حضرت مفتی فضل الرحمن صاحب پس بجائے اس کے کہ دوست مشکلات کے وقت گھبرائیں یا کسی تشویش میں مبتلا ہوں انہیں اس بات کی عادت ڈالنی چاہئے کہ ادھر کوئی مصیبت آئی اور ادھر انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں مفتی فضل الرحمن صاحب کے بچے