تذکار مہدی — Page 22
تذکار مهدی ) 6220 روایات سید نا محمود کی ملازمت میں اور پھر کشمیر میں کرتے رہے ان ایام میں انہوں نے ایک لاکھ کے قریب روپیہ جمع کیا۔اس زمانہ میں روپیہ کی بہت بڑی قیمت ہوا کرتی تھی چنانچہ قریب ہی ایک گاؤں راجپورہ ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چچانے پانچ سو روپیہ میں خریدا تھا چھ سوا یکڑ اس کی زمین ہے اور گو وہ زمین اتنی اچھی نہیں مگر پھر بھی کجا چھ سوا یکٹر زمین ایک رو پیدا یکڑ سے بھی کم قیمت میں انہیں زمین مل گئی پس اگر وہ چاہتے تو اس روپیہ سے بہت بڑی جائیداد پیدا کر سکتے تھے مگر جب انگریزوں کی حکومت آئی اور انہوں نے ان کی جائیداد ضبط کر لی تو وہ اس کے حصول کے لئے مقدمات میں لگ گئے بعض دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ اس کام میں نہ پڑیں اس میں چنداں فائدہ نہیں۔اگر کچھ ملا بھی تو بالکل بے حقیقت ہو گا اس وقت جائیداد کی قیمت کچھ نہیں آپ کے پاس روپیہ ہے۔آپ اگر چاہیں تو اس روپیہ سے پچاس اچھے اچھے قصبے خرید سکتے ہیں اس میں آپ کی اولاد کی بھی بہتری ہوگی کیونکہ اس جائیداد سے ان کے لئے گزارہ کی معقول صورت پیدا ہو جائے گی اس علاقہ میں ان دنوں چھوٹے چھوٹے زمیندار تھے مگر باہر گوجرانوالہ اور لاہور کے اضلاع میں اچھے اچھے زمیندار تھے جو پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ بلکہ سوسو گاؤں کے مالک تھے۔اس لئے انہیں بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ بجائے اس جگہ روپیہ ضائع کرنے کے آپ باہر چالیس پچاس گاؤں خرید لیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ اگر باہر ہم نے گاؤں خرید بھی لیے تو ہمارے بچے جب کبھی باہر نکلیں گے اور لوگ ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ یہ کون ہیں تو وہ آگے سے کہیں گے کہ خبر نہیں کون ہیں کوئی باہر سے آئے ہوئے ہیں لیکن اگر قادیان اور اس کے ارد گرد ہمیں دو ایکٹر زمین بھی مل جائے اور ہماری اولا د فاقوں میں بھی مبتلا ہو جائے تو بھی جب ان کی نسبت کوئی سوال کرے گا کہ یہ کون ہیں؟ تو لوگ جواب دیں گے کبھی یہ ہمارے حاکم اور بادشاہ تھے مگر اب گردش ایام سے غریب ہو گئے ہیں۔چنانچہ اسی خیال کے ماتحت انہوں نے ایک لاکھ روپیہ ضائع کر دیا اور قادیان میں انہیں جو تھوڑی سی جائیداد ملی اس پر اکتفا کر لیا۔میں سمجھتا ہوں وہ جائیداد جو انہیں ملی وہ اس جائیداد کا پانچ سوواں حصہ بھی نہیں تھی۔جو وہ اس روپیہ سے خرید سکتے تھے مگر بہر حال انہوں نے