تذکار مہدی — Page 23
تذکار مهدی ) 23 روایات سید نا محمود اس تھوڑی سی جائیداد کو خوشی سے قبول کیا لیکن اس مقام کو چھوڑ نا پسند نہ کیا جہاں انہیں اپنے بزرگوں کی وجہ سے ایک رنگ کی حکومت حاصل تھی غرض پرانے خاندانوں کے افراد اپنی خاندانی عزت کو جاتے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے اور اس کے لئے ہرممکن قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔(الفضل قادیان مورخہ 18 دسمبر 1939 نمبر 281 جلد 27 صفحہ 6 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دادا کا ذکر خیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ذکر میں کہ انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے ہمارے دادا صاحب کا ذکر سنایا کرتے تھے کہ جب ہمارے خاندان کی ریاست جاتی رہی تو ان کے والد صاحب کو یہاں سے نکلنا پڑا اور کپورتھلہ کی ریاست میں پناہ گزیں ہو گئے۔اس وقت ریاست والوں نے چاہا کہ آپ کو دو گاؤں گزارہ کے لئے دے دیں لیکن آپ نے نہ لئے اور فرمایا۔اگر ہم نے یہ گاؤں لے لئے تو پھر ہم یہیں رہ پڑیں گے اور اس طرح اولاد کی ہمت پست ہو جائے گی اور اپنی خاندانی روایات قائم رکھنے کا خیال اس کے دل سے جاتا رہے گا لیکن وہ رہے ایک لمبے عرصہ تک وہیں۔پھر جس وقت ہمارے دادا ذرا بڑے ہوئے تو اس وقت سولہ سترہ سال کی عمر تھی کہ ان کے والد فوت ہوئے۔انہوں نے انہیں لا کر قادیان میں دفن کیا اور خود دہلی پڑھنے چلے گئے حالانکہ کوئی سامان میسر نہ تھا ایک میراثی خدمتگار کے طور پر ساتھ گیا، شاید اس زمانہ کے لوگوں میں وفا کا مادہ زیادہ ہوتا تھا کہ اس غربت کی حالت میں اس شخص نے ساتھ نہ چھوڑا، جب دہلی پہنچے تو ایک مسجد میں جہاں مدرسہ تھا جا کر بیٹھ گئے۔انہوں نے سناہو ا تھا کہ دہلی شاہی جگہ ہے اور وہاں لڑکوں کو مفت تعلیم ملتی ہے لیکن بیٹھے بیٹھے کئی دن گذر گئے مگر کسی نے ان کا حال تک دریافت نہ کیا اور نہ کھانے کو کچھ دیا۔آخر جب تین دن کا فاقہ ہو گیا تو چوتھے دن کسی شخص کو جو خود بھی کنگال تھا خیال آیا کہ انہیں اتنے دن یہاں بیٹھے ہو گئے ہیں انہیں کچھ کھانے کو تو دینا چاہئے چنانچہ وہ ایک سوکھی روٹی لا کر انہیں دے گیا۔اس نے جو روٹی ان کے ہاتھ میں دی تو ان کا چہرہ متغیر ہو گیا ہمراہی نے سمجھ لیا کہ معلوم ہوتا ہے روٹی خراب ہے اور انہیں دیکھ کر اپنی گذشتہ حالت یاد آ گئی ہے اور اس کا تصور کر کے تکلیف محسوس ہوئی ہے۔اس موقعہ پر اس نے مذاق کے طور پر ان کا دل بہلانے کے لئے کہا۔لائیں میرا حصہ مجھے دیں۔ان کو پہلے ہی غصہ آیا ہو ا تھا اس کا یہ