تذکار مہدی — Page 21
تذکار مهدی ) 21 م۔روایات سید نامحمود کا ذکر کیا۔انہوں نے ایک نسخہ لکھ کر دے دیا۔جب نسخہ بنوانے کے لئے پنساری کے پاس بھیجا گیا تو اس نے بتایا کہ اس پر پانچ سو روپیہ خرچ آئے گا۔شہزادہ یہ سن کر بہت ناراض ہوا۔آخر معمولی زمینداروں سے وہ یکدم بادشاہ بن گئے تھے۔اُن کے لئے یہ بات حیرت کا موجب ہوئی کہ ایک ہی مرض کا نسخہ لکھوایا گیا تھا مگر ایک شخص کو تو انہوں نے ایسا نسخہ لکھ کر دے دیا جس پر ایک پائی خرچ آئی اور ہمیں ایک ایسا نسخہ لکھ کر دیا جس پر پانچ سو روپیہ خرچ آتا ہے۔اس لئے شہزادہ نے ہمارے دادا کو بلوایا اور کہا کہ آپ کو مجھ سے کیا دشمنی تھی کہ آپ نے مجھ سے یہ سلوک کیا؟ آخر مجھ کو بھی وہی بیماری تھی جو باز والے کو تھی۔مگر باز والے کو تو آپ نے ایک پائی کا نسخہ لکھ کر دیا اور مجھے پانچ سوروپیہ کا نسخہ لکھ دیا۔ہمارے دادا نے نسخہ لیا اور اسے پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا اگر نسخہ استعمال کرنا ہے تو یہی کرنا ہو گا۔نہیں تو کسی اور سے علاج کروالیں۔پھر کہا یہ جو پنساری ہیں آخر ان کا بھی گزارہ چلنا ہے یا نہیں۔اگر میں پائی پائی کا ہی نسخہ لکھ کر دوں تو ان کی دکان کس طرح چل سکتی ہے ان کا تو ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ کا خرچ بھی اس طرح نہیں نکل سکتا۔میں نے باز والے کو اس کی حیثیت کے مطابق نسخہ لکھ کر دیا ہے اور آپ کو آپ کی حیثیت کے مطابق نسخہ لکھ کر دیا ہے۔اگر آپ ان لوگوں کی تجارت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا فن ترقی کرے تو میں آپ کے لئے ایسا ہی نسخہ لکھوں گا جو پانچ سو روپیہ میں تیار ہو۔اور نہ آپ کی مرضی جس سے چاہیں آپ علاج کروالیں۔یہ بھی ایک طریق تو ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ بعض تجارتیں چلانے کے لئے امراء کو قیمتی دوائیں لکھ کر دی جا سکتی ہیں۔مگر عام طور پر اس زمانہ میں سستے علاج کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور امیر وغریب سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری کے معاملہ میں امیر اور غریب میں فرق کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔غریب یا تو بغیر علاج کے مرجاتا ہے یا اپنی ساری پونجی دواؤں پر تباہ کر دیتا ہے۔خطبات محمود جلد 27 صفحہ 540 تا 541) آباؤ اجداد کی خاندانی جائیداد پرانے خاندانوں میں اپنی عزت کو قائم رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے ہمارے دادا کے متعلق ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ وہ مختلف کام جو مہاراجہ رنجیت سنگھ