تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 862

تذکار مہدی — Page 550

تذکار مهدی ) کارمهدی 550 روایات سید نامحمود کیا ہے۔لیکن جب زمینوں کا کام اتنا بڑھا کہ میں نے سمجھا اب اگر میں نے اس کی طرف توجہ کی تو سلسلہ کے کام کو نقصان پہنچے گا تو میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو بلوایا اور زمین کے کاغذات ان کے سپرد کر دیئے اور خود میرے پاس جتنا وقت تھا وہ سارے کا سارا میں نے سلسلہ کے لئے وقف کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں یہ کام خود بھی چلا سکتا تھا مگر ان کے سپرد کرنے سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میں زمینوں کے کام سے فارغ ہو کر سلسلہ کے کاموں میں زیادہ تندہی سے مصروف ہو گیا پھر سندھ کی زمینیں ملیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ملازموں سے کام لینے کی توفیق عطا فرما دی۔الفضل 22 اکتوبر 1955 ء جلد 44/9 نمبر 247 صفحہ (5-4 ) جماعت کی مالی قربانیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں لنگر کو چلانے کے لئے بعض دفعہ آپ کو قرض لینا پڑتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تحریک کرنی پڑتی تھی کہ دوست چندہ کی طرف توجہ کریں اور مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے لئے آٹھ دس ہزار روپیہ کی سالانہ ضرورت تھی۔اس لحاظ سے ساری پونجی جو سلسلہ کو سالانہ ملتی تھی۔26 یا 27 ہزار کے قریب تھی اور یہ روپیہ بہت مشکل کے ساتھ جمع ہوتا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میں فخر کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ سلسلہ کے ایک نشان کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ اب اکثر میرا سالانہ چندہ ہی تھیں اور چالیس ہزار کے درمیان ہوتا ہے گویا اس زمانے کے تمام اخراجات میرے موجودہ چندوں سے پورے ہو سکتے تھے لیکن اس وقت ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے جماعت کو بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑتی تھیں اور یہ چیزیں جواب ہمیں نظر آ رہی ہیں اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے بہت مشکل نظر آتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔اس کے ماتحت آپ کو اس بات میں شبہ نہ تھا کہ ان کاموں کے لئے روپیہ آئے گا یا نہیں بلکہ آپ کو جس بات میں شبہ تھا وہ یہ تھی کہ اس روپیہ کو استعمال کرنے والے اس کو دیانت سے استعمال کریں گے یا نہیں۔(الفضل 26 دسمبر 1946 ء جلد 34 نمبر 301 صفحہ 2-1) خدمت دین کو اک فضل الہی جانو شاکر وہ ہے جو فرض ادا کرنے پر پھولتا نہیں بلکہ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر جاتا