تذکار مہدی — Page 551
تذکار مهدی ) 551 روایات سیّد نا محمود ہے۔چندہ دینے والوں میں سے بعض تو ایسے ہیں جو چندہ دے کر صدر انجمن یا خلیفہ امسیح پر احسان کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں فرض ادا ہو گیا مگر ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم پر خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہم سے یہ خدمت لی۔مجھے اس زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے کہ منی آڈروں میں سے جو حضرت صاحب کے نام آئے ایک کے کو پن پر لکھا تھا کہ یہ پندرہ روپیہ ارسال ہیں ایک روپیہ لنگر کے لئے اور باقی آپ خدا کے لئے اپنے نفس پر خرچ کریں اور مجھ پر احسان فرمائیں۔پھر جب زلزلہ آیا اور حضرت اقدس باہر باغ میں تشریف لے گئے اور مہمانوں کی زیادہ آمد ورفت وغیرہ کی وجوہات سے لنگر کا خرچ بڑھ گیا تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ قرض لے لیں۔فرماتے ہیں میں اسی خیال میں آرہا تھا کہ ایک شخص ملا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دیدی اور پھر الگ ہو گیا اس کی حالت سے میں ہر گز نہ سمجھ سکا کہ اس میں کوئی قیمتی چیز ہوگی لیکن جب گھر آکر دیکھا تو دوسو روپیہ تھا۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی حالت سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی ساری عمر کا اندوختہ لے آیا۔پھر اس نے اپنے لئے یہ بھی پسند نہ کی کہ میں پہچانا جاؤں یہ شاکر کا مقام ہے۔(مدارج التقوی۔انوار العلوم جلد اول 381-380) | چودھویں رات کا چاند مومن کسی میدان میں بھی شکست کو تسلیم کر ہی نہیں سکتا اس لئے ہمارے اندر ترقی کی وہ روح ہونی چاہئیں کہ ہمارا زمیندار دوسرے زمیندار سے ہمارا لوہار دوسرے لوہار سے ہمارا ترکھان دوسرے ترکھانوں سے ہمارا پروفیسر دوسرے پروفیسر سے اور ہمارا وکیل دوسرے وکیل سے بڑھ کر ہو۔جب ہم خدا تعالیٰ کی باتوں کو سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ دنیوی علوم دوسروں سے بہتر طور پر نہ سیکھ سکیں اور یہ اپنی سستی ہوگی اگر کوئی کوشش نہ کرے وگرنہ مومن کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی نظر بہت بار یک چیزوں تک پہنچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے چودھویں رات کے چاند کی روشنی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے مگر پہلی رات کا چاند ہر ایک کو نظر نہیں آیا کرتا جو لوگ انبیاء پر ابتداء میں ایمان لاتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو پہلی رات کو چاند کو دیکھتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ان کی نظر بہت تیز ہے۔پس جوشخص پہلی رات کا چاند دیکھ سکتا ہے وہ دوسری ، تیسری اور چوتھی کا کیوں نہ دیکھ سکے گا۔روحانی علم اور