تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 862

تذکار مہدی — Page 331

تذکار مهدی ) 331 → نامحمودی روایات سیّد نا محمود دوسری جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔غرض اس وقت احمدیت کی ساری کمائی دو دریوں پر آ گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کی تعداد اپنی ایک کتاب آئینہ کمالات اسلام میں شائع کی ہے۔اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس وقت کتنے لوگ جلسہ میں شامل ہوئے پھر جس قدر نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع کئے ہیں وہ سارے ایسے نہیں ہیں جو ایک وقت جلسہ میں شامل ہوئے ہوں اور نہ سارے بڑی عمر کے آدمی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ حصہ تو بچوں کا ہے اور کچھ ایسا ہے جو ایک وقت جلسہ میں شامل ہوا اور پھر چلا گیا۔جلسہ سالانہ چونکہ تین چار دن رہا تھا اس لئے ان شامل ہونے والوں میں سے کوئی ایک دن رہا اور چلا گیا۔کوئی تین دن رہا اور چلا گیا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ میں شامل ہونے والوں کی 327 تعداد لکھی ہے۔ان میں نہ تو سارے بالغ تھے اور نہ سارے ایک وقت میں جمع ہوئے تھے بلکہ میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ سو ڈیڑھ سو آدمی جلسہ میں شامل ہوئے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو تھوڑی دیر کے لئے آتے اور چلے جاتے۔یہ جماعت احمدیہ کا دوسرا سالانہ جلسہ تھا اور اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کرتا تو اس مسجد میں جتنے لوگ نظر آ رہے ہیں ان سے کم ہی اس جلسہ میں نظر آتے تھے۔پھر خدا نے یہ برکت دی کہ اس نے چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرنا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ الہام پورا ہونا شروع ہوا کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ تیری طرف دور دور سے لوگ تحائف لے کر آئیں گے کہ سڑکوں میں گڑھے پڑ جائیں گے۔اس الہام کے پورا ہونے کا جو لطف ہم لوگ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے پہلا نظارہ دیکھا ہوا ہے۔وہ لطف وہ لوگ نہیں اٹھا سکتے جنہوں نے قادیان کو بھر پور ہونے کی صورت میں دیکھا۔وہ لوگ جنہوں نے قادیان کو 1900 ء میں دیکھا تھا۔انہیں بھی اب بہت بڑا فرق محسوس ہوتا ہے مگر ہمیں تو 1900 ء کا قادیان بھی بہت آباد دکھائی دیتا ہے۔پھر جنہوں نے 1907ء میں قادیان کو دیکھا وہ بھی اپنے دل میں اس کی موجودہ حالت کو دیکھ کر بہت بڑا فرق محسوس کرتے ہیں مگر 1907 ء میں ہماری یہ کیفیت تھی کہ ہم سمجھتے تھے۔