تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 862

تذکار مہدی — Page 332

تذکار مهدی ) 332 روایات سید نا محمودی ہم ساری دنیا پر چھا گئے ہیں اور اب قادیان بہت آباد شہر ہو گیا ہے۔اس طرح 1913ء میں قادیان کی اور حالت تھی۔1914ء قادیان کی اور حالت ہو گئی۔1917ء میں اس نے اور زیادہ ترقی کی اور 1940ء میں اس کی آبادی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا حتی کہ بعض وہ لوگ جنہوں نے میری خلافت کے ایام میں ہی قادیان کو دیکھا تھا جب وہ پانچ سات سال تک قادیان میں نہ آئے اور اس کے بعد انہیں قادیان کو دیکھنے کا موقع ملا تو انہوں نے ذکر کیا کہ پانچ سات سال کے بعد آ کر ہم نے قادیان کو پہچانا نہیں۔یہ کیسا عظیم الشان نشان ہے جو احمدیت کی صداقت کے متعلق خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا۔بے وقوف لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں بعض اور شہر بھی بڑھ جاتے ہیں حالانکہ ان شہروں کے بڑھنے کی وہ وجوہات نہیں تھیں بے شک اب ہوتی جائیں گی کیونکہ خدا نے آخر قادیان کو ہمیشہ ان باتوں سے محروم نہیں رکھنا یہاں بھی تجارتیں ہوں گی اور نئے سے نئے کارخانے کھلتے چلے جائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائے دعوی سے لے کر آج سے دو تین سال پہلے تک قادیان کی ترقی کا کوئی مادی ذریعہ نہیں تھا مگر پھر بھی خدا نے اسے بڑھا کر دکھا دیا اور اسی طرح ثابت کر دیا کہ احمدیت اس کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اسی طرح قادیان میں جو مختلف قوموں کے افراد کے آپس میں پیوند لگتے ہیں وہ بھی اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہیں۔شائد قادیان میں جتنے نکاح مختلف قوموں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کے آپس میں ہوتے ہیں حالانکہ قادیان کی آبادی صرف دس ہزار ہے۔اتنے نکاح مختلف علاقوں اور مختلف قوموں کے لوگوں کے درمیان شائد لا ہور جیسے شہر میں بھی نہیں ہوتے ہوں گے۔جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے۔یہ ایک بہت بڑا نشان ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔جب تک اس زمانہ کے لوگ زندہ رہیں گے۔ان نشانات کو تازہ رکھیں گے مگر بعد میں آنے والے ان نشانات کو صرف کتابوں میں پڑھیں گے اور کتابوں میں پڑھ کر وہ لطف نہیں اٹھا سکیں گے جو ہم اٹھاتے ہیں۔ہم کتابوں میں ہمیشہ پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے یہ دکھ دیا۔وہ دکھ دیا اور پھر ان دکھوں کے بعد خدا تعالیٰ نے کفار کو اس رنگ میں اپنے عذاب کا نشانہ بنایا مگر اس کا ہمیں وہ لطف نہیں آ سکتا جو حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ کو آیا کرتا تھا۔اور نہ اگلی نسل کو وہ لطف آ سکتا ہے جو آج ہمیں اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر آتا ہے آئندہ آنے والے