تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 862

تذکار مہدی — Page 330

تذکار مهدی ) 330 روایات سید نا محمود مہمان خانہ کی تھی۔یہ صرف چار عمارتیں اس زمانہ میں تھیں۔درمیان کی عمارتیں، ساتھ کی عمارتیں، بورڈنگ اور مدرسہ کی عمارتیں سب بعد کی ہیں۔خود یہ گھر جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہتے تھے۔بہت چھوٹا سا تھا اور اس کے کئی حصے اس وقت نہیں بنے تھے تو یہ تھوڑی سی آبادی تھی جو اس وقت احمدی جماعت کہلاتی تھی۔مجھے یاد ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ پہلا جلسہ تھا یا دوسرا، پہلا تو غالبا نہیں ہوگا کیونکہ مجھے اس کا نظارہ اچھی طرح یاد ہے 1891ء میں پہلا جلسہ ہوا ہے اور اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی۔اس لئے غالباً یہ دوسرا جلسہ گاہ ہوگا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جہاں آج کل مدرسہ احمدیہ ہے۔یہاں ایک پلیٹ فارم بنا ہوا تھا۔پہلے یہاں فصیل ہوا کرتی تھی۔گورنمنٹ نے اسے نیلام کر دیا اور اس ٹکڑے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خرید لیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ ٹکڑا زمین ستر روپوں میں خریدا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ان دنوں جموں میں تھے۔جب آپ کو یہ اطلاع ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ زمین خریدنا چاہتے ہیں تو غالباً آپ نے ہی روپے بھجوائے تھے اور آپ کے روپوں سے ہی یہ زمین خریدی گئی تھی۔اس وقت یہاں ایک چبوترہ سا تھا۔وہ جگہ اس سے کم ہی چوڑی تھی۔جتنی اس مسجد مبارک کی چوڑائی ہے لیکن لمبی چلی جاتی تھی۔مہمان خانے کے ایک سرے سے شروع ہو کر نواب صاحب کے مکانوں کی حد تک چلی گئی تھی اور وہاں فصیل کے گر جانے کی وجہ سے چبوترہ بنادیا گیا تھا۔دوسرا جلسہ یا دوسرے جلسے کا کچھ حصہ اس فصیل پر ہوا تھا۔مجھے یاد ہے ہم اس وقت اس جلسہ اور اس کی غرض و غایت کو سمجھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔البتہ ایک بات مجھے اچھی طرح یاد ہے اور میں اس کے متعلق بعض پرانے لوگوں سے دریافت بھی کیا ہے مگر کسی نے مجھے صحیح جواب نہیں دیا اور وہ یہ کہ اس چبوترے پر دو چھوٹی چھوٹی دریاں بچھا دی گئی تھیں جن پر لوگ بیٹھے تھے یہ بات میری سمجھ میں اب تک نہیں آئی کہ اس وقت کیا ہوا کہ ان دریوں کو بار بار اٹھا کر جگہ بدلی گئی تھی اور کئی بار ایسا ہوا کہ پہلے ایک جگہ دریاں بچھائی جاتیں اور جب لوگ بیٹھ جاتے تو تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اٹھا کر دریاں اور جگہ بچھا دی جاتیں نہ معلوم دھوپ پڑتی تھی یا کوئی اور بات تھی۔میں اس کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا اور اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کوئی ایسا آدمی ملا نہیں جو اس کی وجہ بتا تا۔مجھے بچپن کے لحاظ سے یہ نظارہ خوب یاد ہے اور ایک تماشا سا لگتا تھا کہ پہلے لوگ ایک جگہ بیٹھے ہیں اور پھر یک دم کھڑے ہو کر