تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 862

تذکار مہدی — Page 281

تذکار مهدی ) 281 روایات سید نا محمودی کے خلاف بہت سی کتابیں لکھی ہیں میں نے ارادہ کیا کہ میں مرزا صاحب پر مسمریزم کے ذریعہ اثر ڈالوں گا اور جب وہ مجلس میں بیٹھے ہوں گے تو ان پر توجہ ڈال کر ان کے مریدوں کے سامنے ان کی سبکی کروں گا۔چنانچہ میں ایک شادی کے موقع پر قادیان گیا مجلس منعقد تھی اور میں نے دروازے میں بیٹھ کر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی۔وہ کچھ وعظ ونصیحت کی باتیں کر رہے تھے میں نے توجہ ڈالی تو اُن پر کچھ بھی اثر نہ ہوا میں نے سمجھا ان کی قوتِ ارادی ذرا قوی ہے اس لئے میں نے پہلے سے زیادہ توجہ ڈالنی شروع کی مگر پھر بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ اسی طرح باتوں میں مشغول رہے۔میں نے سمجھا کہ ان کی قوتِ ارادی اور بھی مضبوط ہے اس لئے میں نے جو کچھ میرے علم میں تھا اُس سے کام لیا اور اپنی ساری قوت صرف کر دی لیکن جب میں ساری قوت لگا بیٹھا تو میں نے دیکھا کہ ایک شیر میرے سامنے بیٹھا ہے اور وہ مجھ پر حملہ کرنا چاہتا ہے میں ڈر کر اور اپنی جوتی اٹھا کر بھاگا۔جب میں دروازے میں پہنچا تو مرزا صاحب نے اپنے مریدوں سے کہا دیکھنا یہ کون شخص ہے۔چنانچہ ایک شخص میرے پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اُترا اور اُس نے مسجد کے ساتھ والے چوک میں مجھے پکڑ لیا۔میں چونکہ اُس وقت سخت حواس باختہ تھا اس لئے میں نے پکڑنے والے سے کہا اس وقت مجھے چھوڑ دو میرے حواس درست نہیں ہیں میں بعد میں یہ سارا واقعہ مرزا صاحب کو لکھ دوں گا چنانچہ اُسے چھوڑ دیا گیا اور بعد میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ تمام واقعہ لکھا اور کہا کہ مجھ سے گستاخی ہوگئی ہے میں آپ کے مرتبہ کو پہچان نہ سکا اس لئے آپ مجھے معاف فرما دیں میاں عبد العزیز صاحب مغل لاہور والے سنایا کرتے تھے کہ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ کیوں نہ سمجھا کہ مرزا صاحب مسمریزم جانتے ہیں اور اس علم میں تم سے بڑھ کر ہیں۔اس نے کہا یہ بات نہیں ہوسکتی کیونکہ مسمریزم کے لئے توجہ کا ہونا ضروری ہے اور یہ عمل کامل سکون اور خاموشی چاہتا ہے مگر مرزا صاحب تو باتوں میں لگے ہوئے تھے اس لئے میں نے سمجھ لیا کہ ان کی قوت ارادی زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے۔پس جو قوت ارادی خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہے اور جو کامل ایمان کے بعد پیدا ہوتی ہے اس میں اور انسانی قوت ارادی میں بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ (الزخرف: 39) ہوتا ہے جس شخص کو خدا تعالیٰ قوت ارادی عطا فرماتا ہے اس کے سامنے انسانی قوت ارادی تو بچوں کا ساکھیل ہے۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے سامنے جادوگروں کے سانپ مات