تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 862

تذکار مہدی — Page 282

تذکار مهدی ) 282 روایات سید نا محمود ہو گئے تھے اسی طرح جب خدا تعالیٰ کے پیاروں کی قوت ارادی ظاہر ہوتی ہے تو اس قسم کی قوت ارادی رکھنے والے لوگ بیچ ہو جاتے ہیں۔پس دوسری چیز قومی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام سچائیوں کو اپنے اندر جذب کر لیا جائے یہ نہیں کہ صرف وفات مسیح کو مان لیا جائے اور کہہ دیا کہ بس ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے بلکہ وفات مسیح کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر اس کے چاروں پہلوؤں پر غور کیا جائے کہ وفات مسیح کا ماننا کیوں ضروری ہے ہمیں جو چیز حیات مسیح کے عقیدہ سے چھتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو حیات مسیح کے عقیدہ سے حضرت عیسی کی فضیلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت ہوتی ہے حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا کوئی نبی ہوا ہے نہ ہو گا اور حیات مسیح ماننے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ساری دنیا کی حقیقی اصلاح کی مسیح کی فوقیت ثابت ہوتی ہے اور یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے ہم تو ایک لمحہ کے لئے یہ خیال بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتے کہ مسیح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے اور یہ ماننے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام چوتھے آسمان پر بیٹھے ہیں اسلام کی سخت تو ہین ہوتی ہے دوسری بات جو اس حیات مسیح کے عقیدہ کے ماننے سے ہمیں چھتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے توحید الہی میں فرق آتا ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہمیں وفات مسیح کے مسئلہ پر زور دینا پڑتا ہے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو مسیح خواہ آسمان پر ہوتے یا زمین پر ہمیں اس سے کیا واسطہ تھا مگر جب ان کا آسمان پر چڑھنا محمد رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی توہین کا موجب بنتا ہے اور توحید کے منافی ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ہم تو یہ بات سننا بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ مسیح، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے گجا یہ کہ اس عقیدہ کو مان لیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ عام احمدی جب وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے دلائل پیش کر رہے ہوتے ہیں تو اُن کے اندر جوش پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس طرح اس مسئلہ کو بیان کرتے ہیں جس طرح عام گفتگو کی جاتی ہے مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ جب آپ وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے تھے تو اُس وقت آپ جوش کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے تھے اور آپ کی آواز میں اتنا جلال ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ حیات مسیح کے عقیدہ کا قیمہ کر رہے ہیں۔آپ کی حالت اُس وقت بالکل متغیر ہو جایا کرتی تھی اور آپ نہایت جوش کے ساتھ یہ بات پیش کرتے تھے کہ دنیا کی ترقی صلى الله