تذکار مہدی — Page 280
تذکار مهدی ) 280 نامحمودی روایات سیّد نا محمود میں ناقص رہ جائیں گے۔ہر ایک اپنا اپنا کام کر سکتا ہے جیسا کہ اگر کوئی ہاتھ کا کام پیر سے لینا چاہے یا پیر کا کام ہاتھ سے لینا چاہے تو یہ ناممکن ہے۔بیسیوں کام ہاتھ کے ایسے ہیں جو پیر یا تو بالکل کر ہی نہیں سکے گا یا اگر کرنے کی کوشش کرے گا تو خراب کر دے گا۔دونوں کے کام مختلف ہیں اور علیحدہ علیحدہ کاموں کیلئے خدا تعالیٰ نے ہاتھ اور پاؤں بنائے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جہاں بعض باتوں میں مرد اور عورت میں اتفاق رکھا ہے وہاں دونوں کے مختلف کاموں کے مد نظر اختلافات بھی رکھے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے مرد اور عورتیں اس فرق کو نہیں سمجھتے۔قومی ترقی کے لئے قوت ارادی ضروری ہے (انوار العلوم جلد 15 صفحہ 215،214) دوسری چیز جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے وہ قوت ارادی ہے اور قوت ارادی وہ نہیں جو مسمریزم والوں کی ہوتی ہے بلکہ ایمان کی قوتِ ارادی۔مسمریزم والوں کی قوت ارادی ایمان کی قوتِ ارادی کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔مسمریزم کی قوت ارادی ایمان کی قوتِ ارادی کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوت ارادی اور انسان کی قوت ارادی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔اسی مسجد مبارک میں نچلی چھت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک ہندو جو لا ہور کے کسی دفتر میں اکاونٹنٹ تھا اور مسمریزم کا بڑا ماہر تھا وہ کسی برات کے ساتھ قادیان اس ارادہ سے آیا کہ میں مرزا صاحب پر مسمریزم کروں گا اور وہ مجلس میں بیٹھے ناچنے لگ جائیں گے اور لوگوں کے سامنے اُن کی سبکی ہوگی یہ واقعہ اس ہندو نے خود ایک احمدی دوست کو سنایا تھا وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لاہور کے اس احمدی کے ہاتھ اپنی ایک کتاب روانہ فرمائی اور کہا یہ کتاب فلاں ہندو کو دے دینا۔اس احمدی دوست نے اس کو کتاب پہنچائی اور اس سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے آپ کو اپنی یہ کتاب کیوں بھجوائی ہے اور آپ کا ان کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس پر اُس ہندو نے اپنا واقعہ بتایا کہ مجھے مسمریزم کے علم میں اتنی مہارت ہے کہ اگر میں تانگہ میں بیٹھے ہوئے کسی شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ شخص جس پر میں نے توجہ ڈالی ہوگی وہ بھی ٹانگہ کے پیچھے بھاگا آئے گا حالانکہ نہ وہ میرا واقف ہوگا اور نہ میں اُس کو جانتا ہوں گا۔میں نے آریوں اور ہندوؤں سے مرزا صاحب کی باتیں سنی تھیں کہ انہوں نے آریہ مت