تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 862

تذکار مہدی — Page 175

تذکار مهدی ) 6 175 روایات سید نا محمود تاریخ پر آپ بٹالہ حاضر ہوئے جہاں ڈپٹی کمشنر صاحب دورہ پر آئے ہوئے تھے۔جب آپ عدالت میں پہنچے تو وہی ڈپٹی کمشنر جس نے چند دن پہلے کہا تھا کہ یہ شخص خداوند یسوع کی ہتک کر رہا ہے اس کو کوئی پکڑتا کیوں نہیں اُس نے آپ کا بہت اعزاز کیا اور عدالت میں کرسی پیش کی اور کہا آپ بیٹھے بیٹھے میری بات کا جواب دیں۔اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی بطور گواہ مدعی کی طرف سے پیش ہوئے عدالت کے باہر ایک بڑا ہجوم تھا اور لوگ بڑے شوق سے مقدمہ سننے کے لئے آئے ہوئے تھے جب مولوی محمد حسین صاحب عدالت میں پہنچے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرسی پر بیٹھے دیکھا تو انہیں آگ لگ گئی وہ سمجھتے تھے کہ میں جاؤں گا تو عدالت میں مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہو گی اور بڑی ذلت کی حالت میں وہ پولیس قبضہ میں ہوں گے اب دیکھو یہ مقدمہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا تھا اور مدعی بھی ایک انگریز پادری تھا ( ڈاکٹر مارٹن کلارک کے متعلق مشہور تھا کہ وہ انگریز ہے لیکن در حقیقت وہ کسی پٹھان کی نسل میں سے تھا جس نے ایک انگریز سے شادی کی ہوئی تھی) اور مولوی محمد حسین صاحب جیسے مشہور عالم بطور گواہ پیش ہورہے تھے مگر پھر بھی دشمن ناکام و نامراد رہا اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اعزاز کیا گیا وہاں آپ کے مخالفین کو ذلت اور رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ آپ کو کرسی پیش کی گئی ہے تو انہوں نے کہا بڑی عجیب بات ہے کہ میں گواہ ہوں مگر مجھے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے اور مرزا صاحب ملزم ہیں مگر انہیں کرسی دی گئی ہے اور اس طرح ان کا اعزاز کیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر کو یہ بات بُری لگی۔اس وقت انگریز مولویوں کو بہت ذلیل سمجھتے تھے وہ کہنے لگا ہماری مرضی ہے ہم جسے چاہیں کرسی پر بٹھا ئیں اور جسے چاہیں کرسی نہ دیں۔ان کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ان کا خاندان کرسی نشین ہے اس لئے میں نے انہیں کرسی دی ہے تمہاری حیثیت کیا ہے مولوی محمد حسین صاحب کہنے لگے کہ میں اہلِ حدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور میں گورنر کے پاس جاتا ہوں تو وہ بھی مجھے کرسی دیتے ہیں ڈپٹی کمشنر کہنے لگا تو بڑا جاہل آدمی ہے ملنے جانے اور گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہونے میں بہت فرق ہے ملنے کو تو کوئی چوڑھا بھی آئے تو ہم اس کو کرسی دیتے ہیں اور تو تو اس وقت عدالت میں پیش ہے اس پر بھی مولوی محمد حسین صاحب کو تسلی نہ ہوئی۔وہ کچھ آگے بڑھے اور کہنے لگے نہیں نہیں مجھے کرسی دینی چاہیئے ڈپٹی کمشنر کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔چپڑاسی تو دیکھتے