تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 862

تذکار مہدی — Page 176

تذکار مهدی ) 176 روایات سید نا محمودی ہی ہیں کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی نظر کس طرف ہے چپڑاسی نے جب ڈپٹی کمشنر صاحب کے الفاظ سنے تو اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو بازو سے پکڑ کر جوتیوں میں لاکھڑا کیا جب مولوی صاحب نے دیکھا کہ میری ذلت ہوئی ہے باہر ہزاروں آدمی کھڑے ہیں اگر انہیں میری اس ذلت کا علم ہوا تو وہ کیا کہیں گے تو کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی۔مولوی صاحب نے سمجھا کہ ذلت کو چھپانے کا بہترین موقع ہے جھٹ کرسی کھینچی اور اس پر بیٹھ گئے اور خیال کر لیا کہ لوگ کرسی پر بیٹھے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ مجھے اندر بھی کرسی ملی تھی چپڑاسی نے دیکھ لیا وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا انداز دیکھ چکا تھا اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھ کر خیال کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں یہاں بیٹھا دیکھ لیا تو وہ مجھے پر ناراض ہوں گے اس خیال کے آنے پر اس نے مولوی صاحب کو وہاں سے بھی اٹھا دیا اور کہا کہ کرسی خالی کر دیں۔چنانچہ برآمدہ والی کرسی بھی چھوٹ گئی۔باہر آ گئے تو لوگ چادریں بچھائے انتظار میں بیٹھے تھے کہ مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ایک چادر پر کچھ جگہ خالی دیکھی تو وہاں جا کر بیٹھ گئے یہ چادر میاں محمد بخش صاحب مرحوم بٹالوی کی تھی جو مولوی محمد حسین صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے اور اس وقت غیر احمدی تھے بعد میں وہ احمدی ہو گئے انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو غصہ میں آگئے اور کہنے لگے میری چادر چھوڑ تو نے تو میری چادر پلید کر دی ہے تو مولوی ہو کر عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔چنانچہ اس چادر سے بھی انہیں اٹھنا پڑا اور اس طرح ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا تو دیکھو یہ آیات بینات ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دشمن کے ہاتھوں سے بری فرمایا پھر اس پر ہی بس نہیں سر ڈگلس کو خدا تعالیٰ نے اور نشانات بھی دکھائے جو مرتے دم تک انہیں یاد رہے اور انہوں نے خود مجھ سے بھی بیان کئے 1924 ء میں جب میں انگلینڈ گیا تو انہوں نے یہ سارا قصہ مجھ سے بیان کیا سر ڈگلس کے ایک ہیڈ کلرک تھے جن کا نام غلام حید ر تھا وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے بعد میں وہ تحصیلدار ہو گئے تھے معلوم نہیں وہ اب زندہ ہیں یا نہیں اور زندہ ہیں تو کہاں ہیں پہلے وہ سرگودھا میں ہوتے تھے انہوں نے خود مجھے یہ قصہ سنایا اور کہا جب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ ہوا تو میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ہیڈ کلرک تھا جب عدالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرہ کا انتظام کرو چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن