تذکار مہدی — Page 174
تذکار مهدی ) 6174 کپتان ڈگلس اور مولوی محمد حسین بٹالوی کی گواہی۔روایات سید نا محمود ابھی حال ہی میں سر ڈگلس فوت ہوئے ہیں۔جو جزائر انڈمان میں کمشنر تھے اور ایک زمانہ میں ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ ایک شخص قادیان میں بیٹا لکھتا ہے کہ میں مسیح ہوں اور اس طرح وہ ہمارے خدا کی ہتک کر رہا ہے۔آج تک اس شخص کو کسی نے پکڑا کیوں نہیں۔اتفاقاً ایک منافق احمدی نے ایک پادری سے کچھ پیسے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام لگایا کہ آپ نے اسے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور اس کے ساتھیوں نے ڈپٹی کمشنر ضلع امرتسر کے پاس نالش کر دی اور انہوں نے آپ کے نام وارنٹ جاری کر دیا لیکن اتفاقاً وہ وارنٹ کسی کا پی میں پڑا رہا۔کچھ عرصہ کے بعد جب انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو توجہ دلائی کہ اتنی دیر سے مقدمہ پیش ہے۔آپ نے ایکشن کیوں نہیں لیا تو اس نے ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کولکھا کہ میں نے اتنے عرصہ ہوا۔فلاں شخص کے نام وارنٹ جاری کیا تھا۔لیکن مجھے اس کا جواب نہیں آیا۔اس پر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور ( سر ڈگلس) نے جواب دیا کہ میرے پاس وارنٹ آیا ہی نہیں۔دوسرے میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ملزم مذکور کے نام وارنٹ جاری کرنے کا اختیار آپ کو حاصل نہیں وہ میرے علاقہ میں رہتا ہے اس لئے اگر اس کے نام وارنٹ جاری کر سکتا تھا تو میں کر سکتا تھا اس پر ڈپٹی کمشنر ضلع امرتسر نے ساری مسل اس کے پاس بھیج دی۔یہ شخص جیسا کہ میں نے بتایا ہے اتنا متعصب تھا کہ اس مقدمہ سے چند دن پہلے اس نے کہا تھا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح کا دعویٰ کیا ہے اور اس طرح وہ ہمارے خدا کی ہتک کر رہا ہے اس کو آج تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں جب مسل آئی تو مسل خواں نے کہا جناب والا یہ کیس وارنٹ کا نہیں بلکہ سمن کا کیس ہے اس لئے وارنٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔سمن بھیجا جا سکتا ہے۔ان دنوں جلال الدین ایک انسپکٹر پولیس تھے جو احمدی تو نہیں تھے لیکن بڑے ہمدرد انسان تھے انہوں نے بھی ڈپٹی کمشنر کو توجہ دلائی کہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ وارنٹ جاری کیا جارہا ہے یہ وارنٹ کا کیس نہیں سمن کا کیس ہے لہذا وارنٹ کی بجائے سمن بھیجنا چاہیئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سمن جاری کیا گیا اور انہی جلال الدین صاحب کو اس کی تعمیل کرنے کے لئے قادیان بھیجا گیا چنانچہ بعد میں مقررہ