تذکار مہدی — Page 794
تذکار مهدی ) 794 روایات سید نا محمودی ملکہ کو جو اس وقت بادشاہ تھی بھیج دیا اس کے مقابلہ میں چوہڑوں کا امام ہونے کا دعوی کرنے والے کی دلیری اور اس کی جماعت کا یہ حال تھا کہ یہاں آ کر جب تھانیدار نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی دعوی کیا ہے تو اس نے کہا کہ میں نے تو کوئی دعوی نہیں کیا کسی نے یونہی جھوٹی رپورٹ کر دی ہوگی۔تو شراکت والوں کی سب سے بڑی مخالفت ہوتی ہے اور جس طرح حضرت رسول کریم ﷺ کی بڑی مخالفت وہی ہے جو آپ کے قریبی رشتہ داروں نے کی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی مخالفت بھی آپ کے قریبی رشتہ داروں نے ہی کی۔( خطبات محمود جلد سوم صفحه 39-38 ) احمدیت کی وجہ سے قطع تعلق ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں احمدیت کی وجہ سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نہیں چھوڑنا پڑا۔بہت قلیل تعداد ان لوگوں کی ہے جن کو یہ قربانیاں نہیں کرنی پڑیں۔حتی کہ ہمارا خاندان جس کے مقامی حالات کی وجہ سے بظاہر ممکن نہیں معلوم ہوتا کہ ہمیں بھی اس مشکل سے دو چار ہونا پڑا ہو گا ہمارے بھی بہت سے رشتہ داروں کے ہم سے تعلقات احمدیت کی وجہ سے منقطع ہو گئے میری بیوی کے چا انسپکٹر آف سکولز تھے۔غیر متعصب بھی تھے۔قادیان میں انسپکشن کے لئے آئے۔تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ مجھ سے نہ ملیں۔ایک دفعہ لاہور میں ایک شادی کے موقعہ پر مجھ سے انہی کے خاندان کے ایک شخص نے کہا کہ آپ کیوں ان سے نہیں ملتے۔میں نے کہا وہ ملنا نہیں چاہتے میری تو خواہش ہے کہ ان سے ملوں ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں وہ آگئے۔ان صاحب نے ان میری ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا ابھی آتا ہوں اور پھر جب تک ہم وہاں رہے۔وہ تقریب میں شامل نہ ہوئے۔میں سمجھتا ہوں ہمارے درجنوں ایسے رشتہ دار ہیں جو احمدیت کی وجہ سے منقطع ہو گئے۔اس واسطے نہیں کہ ہم ان سے ملنا نہیں چاہتے بلکہ اس واسطے کہ وہ نہیں ملنا چاہتے۔ہمیں اپنے خاندان کے لوگوں سے گالیاں ملتی تھیں۔ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں احمدی ہو گئیں وہ ہم کو برا بھلا کہتی تھیں۔مجھے یاد ہے۔ایک دفعہ جبکہ میری عمر 6-7 سال کی ہوگی۔میں سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر بار بار یہ کہنا شروع کیا۔”جیہو جیہا کال او ہو جیہی کوکو اس فقرہ کو انہوں نے اتنی دفعہ دہرایا کہ مجھے یاد ہو گیا۔میں نے گھر میں جا کر یہ بات بتلائی اور