تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 793 of 862

تذکار مہدی — Page 793

تذکار مهدی ) 793 روایات سید نامحمود اور کیسا احسان کا بدلہ احسان کرنے کا خیال رکھتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ ایک ایسا وقت ہندوستان میں آنے والا ہے کہ جب سب فرقے گورنمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اس وقت صرف میری جماعت ہوگی جو فرمانبردار رہے گی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ نے اپنی جماعت پر اس بات کا اعتبار کیا ہے کہ وہ ہمیشہ گورنمنٹ کی اطاعت شعار رہے گی۔(اطاعت اور احسان شناسی ، انوار العلوم جلد چہارم صفحه 15 شرکاء کی مخالفت سب سے زیادہ ہوتی ہے دنیا میں سب سے خطر ناک مخالفت شرکاء کی ہوتی ہے۔پنجابی میں تو مشہور ہے۔شراکت دا دانہ سر دکھدے وی کھانا۔سب سے بڑی مخالفت اعزاء اور اقرباء کی ہوتی ہے کیونکہ برداشت نہیں کر سکتے کہ انہی میں سے کھڑا ایک شخص دنیا میں بڑائی اور عزت حاصل کرے وہ جو اس کے مقابلہ میں چپہ چپہ زمین کے لئے لڑتے مرتے ہیں۔وہ کب گوارا کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا اس کے پاس آ جائے اس لئے وہ پورا زور لگاتے ہیں کہ اسے دبائیں حتی کہ جو بے بس ہو جاتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔وہ بھی کبھی کسی نہ کسی طرح دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شاہ پور کے رئیسوں میں سے کسی کو جب خان بہادر کا خطاب ملا تو اسی خاندان میں سے ایک عورت نے جو بہت غریب تھی اپنے لڑکے کا نام خان بہادر رکھ دیا۔اس سے پوچھا گیا۔یہ تو نے کیا کیا تو کہنے لگی کہ معلوم نہیں میرا بچہ بڑا ہوکر کیا بنے گا لیکن لوگ جب نام لیں گے، تو جس طرح اس کے شریک کو خان بہادر کہیں گے اسی طرح اس کو بھی کہیں گے تو جو کچھ اور نہیں کر سکتے وہ نام ہی رکھ لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو آپ کے رشتہ داروں میں سے بھی ایک شخص نے امام ہونے کا دعوی کیا مگر کہتے ہیں فکر ہر کس بقدر ہمت اوست - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ دعویٰ کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے حکم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور چھوٹے درجہ کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے بادشاہوں پر بھی فرض ہے کہ میری اتباع کریں لیکن اس کی نام ہی رکھنے والی بات تھی اس نے دعویٰ تو کیا مگر چوہڑوں کا امام ہونے کا ادھر حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا تو یہاں تک لکھ دیا کہ بادشاہ انگلستان پر بھی فرض ہے کہ مجھے مانے چنانچہ خود لکھ کر