تذکار مہدی — Page 795
تذکار مهدی ) 795 روایات سید نا محمود پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے بتایا۔جیسا باپ بُرا ہے ویسا ہی بیٹا بھی بُرا ہے۔قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بائیکاٹ کیا گیا۔لوگوں کو آپ کے گھر کا کام کرنے سے روکا جا تا کمہاروں کو روکا گیا ، چوہڑوں کو صفائی سے روکا گیا۔ہمارے عزیز ترین بھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھاوج اور دیگر عزیز رشتہ دارختی کہ آپ کے ماموں زاد بھائی علی شیر یہ سب طرح طرح کی تکلیفیں دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گجرات کے علاقہ کے کچھ دوست جو سات بھائی تھے۔قادیان میں آئے اور باغ کی طرف اس واسطے گئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتا تھا۔راستہ میں ہمارے ایک رشتہ دار باغیچہ لگوا رہے تھے۔انہوں نے ان سے دریافت کیا۔کہا سے آئے ہو؟ اور کیوں آئے ہو؟ انہوں نے جواب میں کہا۔گجرات سے آئے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے لئے آئے ہیں۔انہوں نے کہا دیکھو میں ان کے ماموں کا لڑکا ہوں (اس کا نام مرزا شیر علی بیگ تھا جو حضور علیہ السلام کا سالہ بھی تھا اور سدھی بھی یعنی مرزا افضل احمد صاحب کا خسر بھی تھا۔از مرتب ) میں خوب جانتا ہوں۔یہ ایسے ہیں ویسے ہیں۔ان میں سے ایک نے جو دوسروں سے آگے تھا۔بڑھ کر ان کو پکڑ لیا اور اپنے بھائیوں کو آواز دی کہ جلد آؤ۔اس پر وہ شخص گھبرایا تو اس احمدی نے کہا۔میں تمہیں مارتا نہیں کیونکہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ دار ہو۔میں اپنے بھائیوں کو تمہاری شکل دکھانا چاہتا ہوں کیونکہ ہم سنا کرتے تھے کہ شیطان نظر نہیں آتا مگر آج ہم نے دیکھ لیا ہے کہ وہ ایسا ہوتا ہے۔پس ہم میں سے کوئی نہیں جس نے اپنے رشتہ داروں، قریبیوں اور اپنے احساسات کی قربانی نہیں کی اور آج کل جو کچھ دنیا میں ہمیں کہا جاتا ہے۔کون اسے آسانی سے سن سکتا ہے۔مخالف یہ سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ ہم نے خدا کے فرستادہ کو قبول کیا ہے۔جب ہم نے احمدیت کے لئے دنیا کو قربان کر دیا ہے۔دنیا کی سب چیزوں کو کھو کر دیانت اور امانت کو حاصل کیا ہے تو نو جوانو! دیانت اور امانت کا ایسا ثبوت دو کہ کوئی تم پر حرف نہ لا سکے۔( الفضل مورخہ 4 دسمبر 1935 ء جلد 23 نمبر 132 صفحہ 4-3) حضرت مسیح موعود کے مخالف شرکاء کی حالت بظاہر ابوجہل کی اولاد ہوئی اور رسول کریم ﷺ کی نہیں ہوئی مگر خدا تعالیٰ آپ کو فرماتا