تذکار مہدی — Page 791
تذکار مهدی ) 791 نامحمودی روایات سیّد نا محمود چاہیئے آپ کا اصل مقام محدث ہے آپ نبی نہیں۔مگر ابتدائی باتیں جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیں۔ان میں ہی یہ فرمایا کہ دنیا میں ایک نبی آیا پھر آپ کے الہامات کا مجموعہ جو شائع شدہ ہے اس میں کئی سو جگہ آپ کے لیے نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔وضاحت کے ساتھ یا تشبیہ کے ساتھ۔اور یہ خدا تعالیٰ کا قول ہے اور اگر یہ بھی صحیح نہیں تو کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالے نے بھی نعوذ باللہ پھر لوگوں کو اسی گمراہی میں ڈال دیا۔عجیب بات ہے کہ اصل مرتبہ کا ذکر یہاں بھی نہیں نبی اللہ نبی اللہ ہی بار بار فرمایا ہے۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں رات کو سونے کے لیے لیٹتا ہوں تو تکیہ پر سر رکھتے ہی یہ الہام ہونا شروع ہوتا ہے کہ إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ اَقُومُ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری تائید پر ہوں۔آپ نے فرمایا ہے کہ تکیہ پر سر رکھنے سے لے کر سر اٹھانے تک برابر یہ الہام ہوتا رہتا ہے۔الفضل 18 جون 1941 ء جلد 29 نمبر 135 صفحہ 4) ہمیشہ خدا پر بھروسہ رکھنا چاہئے یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو کھول دے گا اور وہ حق کو قبول کریں گے۔میں گو اس وقت چھوٹا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کا اثر اب تک میرے دل پر باقی ہے۔پس یہاں کی جماعت اپنی کوششوں کا اگر کوئی نیک نتیجہ دیکھنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ خدا پر بھروسہ رکھے۔یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ جس چیز کو خدا قائم کرنا چاہتا ہے وہ ہو کر رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک نالی بہت لمبی کھدی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بھیڑ میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے ہوئے تیار ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے میں اس وقت اس مقام پر ٹہل رہا ہوں۔ان کے نزدیک جا کر میں نے کہا قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ انہوں نے اسی وقت چھریاں پھیر دیں۔جب وہ بھیڑیں تڑپیں تو انہوں نے کہا تم چیز کیا ہو۔گوں کھانے والی بھیٹر میں ہی ہو۔ان ایام میں ستر ہزار آدمی ہیضہ سے مرا تھا۔پس اگر کوئی توجہ نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے۔اس کے کام رک نہیں سکتے وہ ہو کر رہیں گے۔( جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 84)