تذکار مہدی — Page 790
تذکار مهدی ) 790 روایات سید نامحمود گواہی دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ہم نے اس قدر نشانات دیکھے ہیں کہ جو شمار میں نہیں آسکتے اور آپ کے طفیل اور آپسے تعلق رکھ کر ہم میں سے ہزاروں نے کلام الہی سے بقدر اپنے ظرف کے حصہ پایا ہے۔چنانچہ ان لوگوں میں سے ایک میں بھی ہوں میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے رؤیا اور الہامات سے حصہ پایا ہے اور سینکڑوں امور قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے بتائے ہیں جو اپنے وقت پر جا کر پورے ہوئے حالانکہ اس سے پہلے سامان ان امور کے وجود میں آنے کے بالکل مخالف تھے۔( تحفہ لارڈارون۔انوار العلوم جلد 12 صفحہ 48-49) آنے والا مسیح موعود نبی ہی ہوگا اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کلام بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نبی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ابتدائی زمانہ کا ایک الہام بیان فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس الہام کی دو قر آتیں ہیں۔ایک یہ کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور دوسری یہ کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔گو یا اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کلام ابتداء ہی میں اس طرح شروع کرتا ہے۔کہ دنیا میں ایک نذیر اور نبی آیا۔نذیر کا لفظ بھی قرآن کریم میں جہاں استعمال ہوا ہے نبی کے معنوں میں ہی ہوا ہے۔اس لیے نذیر کے لفظ سے کوئی شبہ پیدا نہیں ہوسکتا پھر تذکرہ نکال کر دیکھو کہ کتنی جگہ آپ کے الہامات میں آپ کے لیے مجد دی محدث کا لفظ ہے؟ اور کتنی جگہ نبی اور رسول کا ؟ یہ صحیح ہے کہ ہر نبی محدث بھی ہوتا ہے۔جیسے ایم۔اے ، بی۔اے بھی ہوتا ہے۔ہم ایم۔اے کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ جب اس نے بی۔اے پاس کیا تھا۔بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ مدرسہ میں داخل ہوا تھا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ ایم۔اے نہیں۔اسی طرح نبی مومن بھی ہوتا ہے۔صالح اور شہید بھی اور صدیق بھی۔یہ سب لفظ اس کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ نبی نہیں۔عجیب بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نعوذ باللہ غلطی کی کہ آنے والے کا صحیح روحانی مرتبہ ایک بار بھی بیان نہ فرمایا۔ایک ہی دفعہ اس کے مرتبہ کا ذکر فرمایا۔مگر وہاں بھی نبی اللہ کے نام سے اسے یاد کیا۔اب چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالے اس غلطی کا ازالہ فرما دیتا اور کہہ دیتا کہ اس حدیث سے غلطی نہیں کھانی