تذکار مہدی — Page 685
تذکار مهدی ) 685 روایات سید نا محمودی ہاتھ بڑھاؤ یہ روپیہ لے جاؤ اور فلاں آدمی کو جا کر دے آؤ۔عبدالرحمن صاحب کا غانی نے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے وہ روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے مگر ہم نے دیکھا کہ روپے لیتے وقت عبدالرحمن صاحب کا غانی کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ کچھ متوحش سے نظر آنے لگے۔حضرت خلیفہ اول نے کہا دیکھو مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ چونکہ پچاس یا ساٹھ رو پیدا نہوں نے بھی دیکھا نہ تھا اس لئے روپیہ پکڑتے وقت ان کے ہاتھ کانپنے لگے، صرف اس خیال سے کہ اگر یہ روپیہ رستہ میں کہیں گم ہو جائے یا گر جائے تو میں اتنا روپیہ کہاں سے ادا کروں گا۔آپ نے فرمایا ایک ہندو کو بلاؤ اس کو میں اگر ایک لاکھ روپیہ بھی دوں تو وہ دھوتی کے کسی کونے میں دبا کر اطمینان سے لے جائے گا اور اُس کو خیال بھی نہ ہو گا کہ میں کیا لئے جا رہا ہوں۔تو ہندو اگر بے کار بھی ہوگا تو اسے فکر نہ ہو گی مگر اس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو سخت تکلیف کا سامنا ہوگا۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مسلمانوں نے تجارت جیسے منافع بخش پیشے کو چھوڑ دیا، اگر مسلمان تجارت کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔(ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 446، 447) سچے مومن کی مثال وہ لوگ جو تھوڑی سی قربانی کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دے دیا اور وہ اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے بہادر سپاہی کس طرح کہلا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا بہادر سپاہی وہ ہے جو اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آواز پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور ہر وقت پا بہ رکاب رہتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے مومن کی مثال کچے دوست سے دیتے تھے آپ سنایا کرتے تھے کہ کوئی امیر آدمی تھا اس کے لڑکے کے کچھ اوباش لڑکے دوست تھے باپ نے اُسے سمجھایا کہ یہ لوگ تیرے بچے دوست نہیں ہیں محض لالچ وغیرہ کی خاطر تمہارے پاس آتے ہیں ورنہ ان میں سے کوئی بھی تمہارا وفا دار نہیں مگر لڑکے نے اپنے باپ کو جواب دیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی سچا دوست شاید میسر نہیں آیا اس لئے آپ سب لوگوں کے متعلق یہی خیال رکھتے ہیں مگر میرے دوست ایسے نہیں وہ بہت وفادار ہیں اور میرے لئے جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔باپ نے پھر سمجھایا کہ سچے دوست کا ملنا بہت مشکل ہے ساری عمر میں مجھے ایک ہی سچا۔