تذکار مہدی — Page 686
تذکار مهدی ) 686 روایات سید نامحمود دوست ملا ہے لیکن وہ لڑکا اپنی ضد پر قائم رہا کچھ عرصے کے بعد اس نے گھر سے خرچ کے لئے کچھ رقم مانگی تو باپ نے جواب دیا کہ میں تمہارا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تم اپنے دوستوں سے مانگو میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔دراصل اُس کا باپ اس کے لئے موقع پیدا کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا امتحان لے جب باپ نے گھر سے جواب دے دیا اور تمام دوستوں کو معلوم ہو گیا کہ اسے گھر سے جواب مل گیا ہے تو انہوں نے آنا جانا بند کر دیا اور میل ملاقات بھی چھوڑ دی آخر تنگ آکر خود ہی ان کو ملنے کے لئے ان کے گھروں پر گیا۔جس دوست کے دروازہ پر دستک دیتا وہ اندر سے ہی کہلا بھیجتا کہ وہ گھر میں نہیں ہے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں یا وہ بیمار ہیں اس وقت مل نہیں سکتے۔سارا دن اُس نے چکر لگایا مگر کوئی دوست ملنے کے لئے باہر نہ نکلا آخر شام کو گھر واپس لوٹ آیا۔باپ نے پوچھا بتاؤ دوستوں نے کوئی مدد کی وہ کہنے لگا سارے ہی حرام خور ہیں کسی نے کوئی بہانہ بنالیا ہے اور کسی نے کوئی۔باپ نے کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ وفادار نہیں ہیں اچھا ہوا تمہیں بھی تجربہ ہو گیا ہے۔اب آؤ میں تمہیں اپنے دوست سے ملاؤں وہ پاس ہی کسی چوکی میں سپاہی کے طور پر ملازم تھا یہ باپ بیٹا اُس کے مکان پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔اندر سے آواز آئی کہ میں آتا ہوں لیکن کافی دیر ہوگئی اور وہ دروازہ کھولنے کے لئے نہ آیا۔لڑکے کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے اُس نے باپ سے کہا ابا جی ! معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دوست بھی میرے دوستوں جیسا ہی ہے۔باپ نے کہا کچھ دیر انتظار کرو آدھا گھنٹہ گزر چکنے کے بعد اُس نے دروازہ کھولا گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی، ایک ہاتھ میں ایک تھیلی اُٹھائی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بیوی کا بازو پکڑے ہوئے تھا، دروازہ کھولتے ہی اُس نے کہا معاف فرمائیے آپ کو بہت تکلیف ہوئی میں جلدی نہ آسکا۔میرے جلدی نہ آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ نے جب دروازہ پر دستک دی تو میں سمجھ گیا کہ آج کوئی خاص بات ہے کہ آپ خود آئے ہیں ورنہ آپ کسی نوکر کو بھی بھجوا سکتے تھے، میں نے دروازہ کھولنا چاہا تو مجھے یکدم خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی مصیبت آئی ہو یہ تین چیزیں میرے پاس تھیں ایک تلوار اور ایک تھیلی جس میں میرا ایک سال کا اندوختہ جو کہ پانچ سو روپے کے قریب ہے اور میری بیوی خدمت کے لئے آئی ہے کہ شاید آپ کے گھر میں کوئی تکلیف ہو اور یہ دیر جو ہوئی ہے وہ اس تھیلی کے کھودنے میں ہوئی ہے۔میں نے خیال کیا کہ ممکن ہے کوئی ایسی مصیبت ہو جس میں کوئی جانباز کام آ سکتا ہو اس لئے میں نے تلوار ساتھ لے لی ہے کہ اگر جان کی ضرورت ہو تو میں جان پیش کر سکوں، پھر میں نے