تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 684 of 862

تذکار مہدی — Page 684

تذکار مهدی ) 684 روایات سید نا محمودی تھوڑے لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں اور کسی کی موت پر زیادہ لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں مگر آسمان پر یہ بات نہیں۔وہاں کسی کی موت پر رنج کا اظہار کیا جاتا اور کسی کی موت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔پھر یہ جذ بہ بھی اموات کے لحاظ سے نسبتی طور پر تقسیم ہو جاتا ہے اور فرشتوں کا رنج اور ان کی خوشی بعض دفعہ مرکب ہو جاتی ہے۔یعنی فرشتے صرف رنج یا صرف خوشی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی خوشی اور ان کا رنج ملا جلا ہوتا ہے۔مثلاً جب کوئی بدقسمت اور گنہگار انسان مرتا ہے یا ایسا ظالم انسان مرتا ہے جس نے دنیا کے امن کو برباد کیا ہوا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے ملائکہ خوش بھی ہوتے ہیں کہ بندوں کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور وہ رنج بھی کرتے ہیں کہ اپنے مولا کو راضی کرنے کے سے پہلے وہ شخص مر گیا۔اسی طرح جب اللہ تعالی کے بزرگ اور نیک لوگ فوت ہوتے ہیں اور دنیا میں ان کی وفات کی وجہ سے کہرام مچا ہوا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے مچا فرشتے ان کی صحبت کے خیال سے خوشی منارہے ہوتے ہیں۔موت کیا ہے؟ موت اس دنیا سے اگلے جہان میں جانے کا ایک دروازہ ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحه 171-173 ) تجارت کا شہ اختیار کرنا چاہئے ہندوؤں میں بھی تنظیم ہے۔ہندوؤں میں سے اگر کوئی شخص بیکار ہو تو وہ کبھی متنظر نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پیشے بہت ہیں۔ایک جگہ نہیں۔تو دوسری جا کر کوئی کام شروع کر دوں گا اور اگر دوسری جگہ بھی نہیں تو کہیں اور جا کر کوئی پیشہ اختیار کرلوں گا لیکن اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دیکھو اگر کوئی مسلمان بے کار ہو جائے تو ایک آدھ جگہ ملازمت کی کوشش کرے گا اگر 6* وہ ناکام رہا تو سوائے بھیک مانگنے کے وہ کسی دوسرے پیشہ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو گا۔میں ابھی طالب علم تھا عبدالرحمن صاحب کا غانی مرحوم جن کا اخبارات میں اٹھرا کی گولیوں کا اشتہار چھپا کرتا تھا وہ بھی طالب علم تھے، وہ مجھ سے پہلے سے پڑھ رہے تھے اس لئے وہ مجھ سے سینئر تھے ہم حضرت خلیفہ اول سے طب پڑھتے تھے ایک دن مطب میں ہم بیٹھے ہوئے تھے حضرت خلیفہ اول ہمیں کوئی طب کی کتاب پڑھا رہے تھے اُس وقت حضرت خلیفہ اول خلیفہ نہ تھے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے۔حضرت خلیفہ اول نے کسی شخص کا پچاس ساٹھ روپے قرض دینا تھا آپ نے عبدالرحمن صاحب کا غانی کو بلایا اور کہا کہ