تذکار مہدی — Page 654
تذکار مهدی ) بھیڑئیے اور بکری کی مثال 654 روایات سید نا محمود مشہور ہے کہ ایک بھیڑیا اور بکری کا بچہ ایک ندی پر پانی پی رہے تھے۔بھیڑیا اس طرف تھا جس طرف سے پانی آ رہا تھا۔بھیڑیے نے جب اس کا نرم نرم گوشت دیکھا تو اس کا جی چاہا کہ اسے کھالے چنانچہ اس نے غصہ سے اسے کہا کہ تم میرے پانی کو گدلا کیوں کر رہے ہو؟ بکری کے بچہ نے کہا کہ حضور! میں پانی گدلا نہیں کر رہا کیونکہ پانی تو آپ کی طرف سے آرہا ہے۔اس پر بھیڑیے نے اس کے زور سے تھپڑ مارا اور یہ کہتے ہوئے اُسے چیر پھاڑ دیا کہ کم بخت! آگے سے جواب دیتا ہے۔گویا پہلے اس نے ایک غلط دلیل دی اور جب اسے اپنی غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی تو اس نے دوسرا بہانہ بنالیا کہ آگے سے جواب دیتا ہے اور اسے مارڈالا۔یہی حال احمدیت کے دشمنوں کا ہے۔جب ان کے سوالوں کا ہماری جماعت کے دوست جواب دیتے ہیں تو وہ شور مچا دیتے ہیں کہ ہمیں اشتعال دلاتے ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تو مولویوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار ان لوگوں سے کہا کہ میرا کیا قصور ہے میں تو اسلام کی تعلیم ہی پیش کرتا ہوں۔مگر مولوی اپنی مخالفت میں بڑھتے چلے گئے۔چنانچہ 1891ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے سارے ملک کا دورہ کیا اور مولویوں سے کفر کا فتویٰ لے کر شائع کروایا۔جس میں آپ کو کافر، مرتد ، دجال ،نمرود، شداد، فرعون اور ابلیس وغیرہ کہا گیا۔پھر یہ بھی کہا گیا کہ ان کی عورتیں بھگا لینا جائز ہے۔ان کی اولا د ولد الزنا ہے اور ان کو مسجدوں میں داخل ہونے دینا منع ہے۔بلکہ قبرستانوں میں ان کو دفن کرنے کی بھی اجازت نہیں۔غرض جو کچھ ممکن تھا وہ انہوں نے کیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی فرمایا کہ میں تو اسلام کو زندہ کرنے کے لیے آیا ہوں۔تم کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو؟ میں تمہارا کیا بگاڑتا ہوں ؟ مگر اس پر بھی لوگ باز نہ آئے اور وہ متواتر دس سال تک گالیاں دیتے چلے گئے۔اس پر 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان فرمایا کہ اس حدیث کے مطابق کہ ایک مسلمان کو کافر کہنے والا خود کا فر ہو جاتا ہے۔مجھے کافر قرار دینے والے خود کافر ہو چکے ہیں۔یہ سن کر مولویوں نے پھر شور مچا دیا کہ ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور یہی شور اب تک مچایا جا رہا ہے۔کوئی نہیں سوچتا کہ پہلے فتوے لگانے والے کون تھے اور انہوں نے ہم کو کیا کچھ کہا۔ہم نے