تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 653 of 862

تذکار مہدی — Page 653

تذکار مهدی ) 653 روایات سید نامحمود تین سال میں تین سو تیں کتابیں لکھ لیتے۔بچوں کے لیے کتابیں لکھنا کونسی مشکل بات ہے۔لیکن یہ لوگ یہ تو کوشش کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انہیں پرچے دیکھنے کے لیے بھیج دے اور انہیں کچھ پیسے مل جائیں لیکن اس طرف توجہ نہیں کرتے کہ وہ علمی اور اخلاقی اور تربیتی کتابیں لکھیں حالانکہ ہم نے بھی اُن کے معاوضہ میں ایک رقم مقرر کی ہوئی ہے۔اندھا دھند قانون بنا دینا درست نہیں ہوتا ( خطبات محمود جلد 32 صفحہ 153-152 ) پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور سمجھ سوچ سے کام لیتے ہوئے ہر کام کو پہلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ چلانے کی کوشش کرو۔اندھادھند قانون بنا دینا کوئی فائدہ نہیں دیتا جب تک کسی قانون کے متعلق یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ واقعی مفید ہے اور ہر جگہ جاری کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اندھا دھند قانون بنانے والوں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مثل سنایا کرتے تھے کہ ایک ملا تھا اور اُس کے ساتھ اُس کا کنبہ بھی تھا وہ دریا کے کنارے کشتی پر سوار ہونے کے لئے آئے ملاح اُن کے لئے کشتی لینے گیا کشتی چونکہ کنارے کے پاس ہی تھی ملا نے دیکھا کہ ملاح کے ٹخنوں تک پانی آتا ہے اور دریا کی چوڑائی اتنی ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ پانی کمر تک آجائے گا حالانکہ دریا کے متعلق اس قسم کا اندازہ لگا نا حد درجے کی حماقت ہے کیونکہ دریا میں اگر ایک جگہ ٹخنے تک پانی ہو تو اُس کے ساتھ ہی ایک فٹ کے فاصلہ پر بانس کے برابر ہو سکتا ہے مگر اُس ملا نے اربعہ سے نتیجہ نکالا کہ پانی کمر تک آئے گا۔یہ خیال کرتے ہوئے اُس نے کشتی کا خیال چھوڑ دیا اور سب بیوی بچوں کو لے کر دریا عبور کرنے لگا۔ابھی تھوڑی دُور ہی گیا تھا کہ پانی بہت گہرا ہو گیا اور سب غوطے کھانے لگے خود تو وہ تیرنا جانتا تھا اس لئے اُس نے اپنی جان بچالی مگر بیوی بچے سب ڈوب گئے۔دوسرے کنارے پر پہنچ کر پھر اربعہ لگانے لگا کہ شاید پہلے میں نے اربعہ لگانے میں کوئی غلطی کی ہے لیکن دوبارہ وہی نتیجہ نکلا تو وہ کہنے لگا کہ اربعہ نکلا جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں۔پس بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں اربعہ نہیں لگایا جاسکتا ہر ایک چیز کا اندازہ الگ الگ طریقہ پر کیا جاتا ہے اور ہر ایک بیماری کا علاج الگ الگ ہوتا ہے، خالی قانون بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک حالات کو مدنظر نہ رکھا جائے۔مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پروگرام ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 204)