تذکار مہدی — Page 469
تذکار مهدی ) 469 روایات سید نا محمود ورزش انسان کے کاموں کا حصہ ہے۔ہاں گلیوں میں بے کار پھر نا، بے کار بیٹھے باتیں کرنا اور بخشیں کرنا آوارگی ہے اور ان کا انسداد خدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔اگر تم لوگ دُنیا کو وعظ کرتے پھر ولیکن احمدی بچے آوارہ پھرتے رہیں تو تمہاری سب کوششیں رائیگاں جائیں گی۔پس تمہارا فرض ہے کہ ان باتوں کو روکو، دکانوں پر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے والوں کو منع کرو اور کوئی نہ مانے تو اُس کے ماں باپ ، اُستادوں کو اور محلہ کے افسروں کو رپورٹ کرو کہ فلاں شخص آوارہ پھرتا یا ( خطبات محمود جلد 20 صفحہ 76 ) فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوراک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہم نے دیکھا ہے۔آپ کا یہ طریق تھا کہ جب آپ روٹی کھاتے تو روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تو ڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتے اور اس وقت تک کہ دانت اس کو چبا سکیں اچھی طرح چباتے رہتے۔آپ کی عادت بڑا لقمہ لینے کی نہیں تھی بلکہ آپ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے اور جہاں اس پہلے لقمہ کو دیر تک چباتے رہتے وہاں روٹی کا ایک اور ٹکڑا لے کر اپنے ہاتھ میں ملتے چلے جاتے اور ساتھ ہی سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ کہتے جاتے کچھ دیر کے بعد اس میں سے کوئی ٹکڑا سالن لگا کر منہ میں ڈال لیتے اور روٹی کے باقی ٹکڑے دستر خوان پر پڑے رہتے دیکھنے والے بعض دفعہ کہا کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روٹی کے ٹکڑوں میں سے حلال اور حرام ذرے الگ الگ کرتے ہیں اور چونکہ روٹی کے بہت سے ٹکڑے آپ کے دستر خوان پر جمع ہو جاتے تھے اس لئے جب آپ کھانے سے فارغ ہو جاتے تو لوگ تبرک کے طور پر ان ٹکڑوں کو آپس میں تقسیم کر لیا کرتے تھے۔(تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 19) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کم خوراک تھے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مومن ایک انتڑی سے کھاتا ہے تو کافر دس انتڑیوں سے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی غذا بہت کم تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ بمشکل ایک پھل کا کھاتے تھے۔یہ نہیں کہ بھوکے رہ کر ایسا کرتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ رغبت سے استغناء پیدا ہوتے ہوتے یہ عادت ہو گئی تھی اور توجہ اور خیالات کی رو کے اس طرف