تذکار مہدی — Page 470
تذکار مهدی ) 470 روایات سید نا محمود سے ہٹ جانے سے آہستہ آہستہ کھانا بہت قلیل رہ گیا تھا۔(خطبات محمود جلد 12 صفحہ 275) عربی ام الالسنه قرآن کریم تو ایک بہت بڑی چیز ہے۔وہ خدا تعالی کا آخری کلام ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن کریم نازل ہوا ہے خاتم النبین اور سَيِّدِ وُلدِ آدم ہیں لیکن عام باتوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی بعض دفعہ ایسا تصرف کرتا ہے کہ اعتراض کرنے والے کو فوراً پکڑ لیتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی آیا اور اس نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی زبان ام الالسنہ ہے۔حالانکہ میکس مولر وغیرہ نے لکھا ہے کہ جو زبان ام الالسنہ ہوتی ہے وہ مختصر ہوتی ہے۔پھر آہستہ آہستہ لوگ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم تو میکس مولر کے اس فارمولا کو نہیں مانتے کہ ام الالسنہ مختصر ہوتی ہے۔مگر چلو بحث کو کو تاہ کرنے کے لئے ہم اس فارمولا کو مان لیتے ہیں اور عربی زبان کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ اس معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔اس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ انگریزی زبان عربی زبان کے مقابلہ میں نہایت اعلیٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے فرمایا اچھا آپ بتائیں کہ انگریزی میں ” میرے پانی کو کیا کہتے ہیں۔اس نے کہا ”مائی واٹر۔آپ نے فرمایا عربی زبان میں تو صرف ”مائی" کہنے سے ہی یہ مفہوم ادا ہو جاتا ہے۔اب آپ بتائیں کہ مائی واٹر زیادہ مختصر ہے یا مائی۔اب اگر چہ آپ انگریزی نہیں جانتے تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان پر ایسے الفاظ جاری فرما دیئے کہ معترض آپ ہی پھنس گیا اور وہ سخت شرمندہ اور لا جوب ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر تو عربی زبان ہی مختصر ہوئی۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا۔یعنی ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا۔جو قرآن کریم کو پڑھنے والے ہوں گے۔اس سے سچا عشق رکھتے ہوں گے اور اس کی تفسیر کرنے والے ہوں گے۔وہ دشمنوں کو ان کے حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ ان کا منہ بند ہو جائے گا۔دوسرے اس نے قرآن کریم کے اندر الیسا مادہ رکھ دیا ہے کہ معترض جو بھی اعتراض کریں۔اس کا جواب اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔گویا آپ کی حفاظت کے دوطریق ہیں۔ایک انٹرنل (Internal) یعنی اندرونی ذریعہ ہے اور خود قرآن کریم میں یہ خصوصیت رکھ دی گئی ہے کہ اگر اُس کی کسی آیت پر اعتراض ہو تو دوسری آیات اس