تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 862

تذکار مہدی — Page 458

تذکار مهدی ) 458 روایات سیّد نا محمود علیہ الصلوۃ والسلام کو جا کر کہہ دی۔آپ نے قلم اٹھایا اور اپنے نام کے آگے مسیح موعود لکھ دیا۔میں پھر وہ رقعہ لایا تو دیکھ کر کہنے لگے۔اب تو بڑی مصیبت ہے اب تو قادیان سے جانا ہی پڑے گا چنانچہ وہ چل پڑے اس وقت ظہر کا وقت تھا۔ظہر کے وقت وہ نکلے اور پیدل چل کر جالندھر گئے۔جالندھر سے ہوشیار پور گئے۔ہوشیار پور جا کر پھر قادیان واپس آئے۔مگر قادیان کے قریب پہنچ کر پھر گھبراہٹ میں امرتسر یا لاہور چلے گئے اور تیسرے دن صبح ان سب مقامات کا چکر لگا کر قادیان واپس آگئے اور کہنے لگے آئندہ میں آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔مجھے معاف کیا جائے میں قادیان سے باہر نہیں رہ سکتا۔غرض دو تین دن میں وہ قادیان سے جالندھر گئے جالندھر سے ہوشیار پور گئے۔ہوشیار پور سے واپس آکر پھر امرتسر یا لاہور گئے اور پھر واپس قادیان آگئے۔گویا تقریباً دو تین سو میل کا سفر انہوں نے طے کر لیا۔ان کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے ایک دفعہ گورداسپور کے مقدمہ میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہیں تشریف رکھتے تھے۔آپ نے فرمایا یہ روز مجھے دق کرتے ہیں ان کا کوئی انتظام کرنا چاہئے۔چنانچہ وہ دوست جو ساتھ تھے انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ان سے کہا کہ قادیان سے ایک ضروری کتاب لانی ہے۔آپ جائیں اور کتاب لے آئیں۔گورداسپور سے قادیان سولہ میل کے قریب ہے۔عشاء کے وقت وہ گئے اور رات کے بارہ بجے کتاب لے کر واپس آگئے۔لوگوں نے تو یہ تدبیر اس لئے کی تھی کہ کسی طرح ان کو وہاں سے نکالیں مگر وہ راتوں رات پھر واپس پہنچ گئے۔اس پر دوست پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔وہ ہنس کر کہنے لگے مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے کیوں بھجوایا تھا۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب میں کوئی شرارت نہیں کروں گا۔غرض بتیس میل سفر انہوں نے دو چار گھنٹوں میں کر لیا اور پھر یہ بھی نہیں کہ اس قدر سفر کے بعد وہ بارہ گھنٹے آرام کرتے ہوں۔بلکہ جب بھی انہیں کسی اور کام کے لئے بھجوایا جاتا فوراً تیار ہو جاتے تھے۔تو دنیا میں بڑے بڑے تیز چلنے والے بھی پائے جاتے ہیں اور شدید ترین سست اور غافل بھی پائے جاتے ہیں۔وہی بچہ جس کو دو قدم چلنے پر روٹی یا پھل یا فروٹ انعام کے طور پر دیا جاتا ہے۔بعد میں ایک بڑا سیاح بن جاتا ہے اور دو تین سومیل دو چار دن میں پیدل سفر طے کر لیتا ہے اب غور کرو کہ اتنا تیز چلنے والا کون تھا ؟ وہی تھا جو کل ایک قدم بھی انعام کے لالچ کے بغیر اٹھا سکتا تھا۔( خطبات محمود جلد 33 صفحہ 120 تا 122 ) |