تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 862

تذکار مہدی — Page 459

تذکار مهدی ) 459 روایات سید نا محمود خوبصورتی کا پہچاننا آسان نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے درمیان آپس میں اسی بات پر بحث چھڑ گئی۔ضرت خلیفہ اول فرماتے کہ خوبصورتی کا پہچاننا آسان نہیں ہر شخص کی نگاہ حسن کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتی یہ صرف طبیب ہی پہچان سکتا ہے کہ کون خوبصورت ہے اور کون بدصورت۔مگر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے تھے کہ یہ کون سی مشکل بات ہے ہر آنکھ انسانی خوبصورتی کو پہچان سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ بے شک ہر نگاہ حسن کو اپنے طور پر پہچان لیتی ہے مگر اس شناخت میں بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ کون واقعہ میں خوبصورت ہے اور کون محض اوپر سے خوبصورت نظر آ رہا ہے، اسی گفتگو میں حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کیا آپ کے نزدیک یہاں کوئی مرد خوبصورت بھی ہے؟ انہوں نے ایک نوجوان کا نام لیا جو اتفاقاً اس وقت سامنے آ گیا تھا۔کہنے لگے میرے خیال میں یہ خوبصورت ہے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا آپ کی نگاہ میں تو یہ خوبصورت ہے مگر دراصل اس کی ہڈیوں میں نقص ہے۔پھر آپ نے اسے قریب بلایا اور فرمایا۔میاں ذرا قمیص تو اٹھانا اس نے قمیص جو اٹھائی تو ٹیڑھی ہڈیوں کی ایسی بھیانک شکل نظر آئی کہ مولوی عبدالکریم صاحب کہنے لگے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةً إِلَّا بِاللهِ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ اس کے جسم کی بناوٹ میں یہ نقص ہے میں اس کا چہرہ دیکھ کر ہی اسے خوبصورت سمجھتا تھا۔تو در اصل جسم میں بہت سے نقائص ہوتے ہیں۔کئی لوگوں کے بدن پر گھمبیر ہوتے ہیں کئی کی ہڈیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں۔بعض کے سینوں میں اتنا اتنا گڑھا ہوتا ہے کہ اس میں پاؤ بھر گوشت سما جائے اور جب کبھی وہ لوگوں کے سامنے کپڑے اتار کر نہانے لگیں یا کسی اور موقع پر انہیں قمیص اتارنی پڑے تو لوگوں پر ان کا عیب ظاہر ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے لباس کو اتارا ہے اور اس کی یہ غرض مقرر کی ہے کہ یہ تمہارے عیبوں کو چھپاتا ہے۔خطبات محمود جلد 15 صفحہ 155-154 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس سوال وجواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جو دوست باہر سے آیا کرتے تھے، وہ