تذکار مہدی — Page 333
تذکار مهدی ) 333 نامحمودی روایات سیّد نا محمود دل کو تسلی دینے کے لئے ضرور خیال کر لیا کرتے ہیں کہ اتنی گری ہوئی حالت تو نہیں ہوسکتی تھی۔مضمون بالا رہا ( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 560 تا 563) 1897ء میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعود کو بھی اس میں مضمون لکھنے کے لئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی پیغام لے کر آئے تھے۔حضرت مسیح موعود کو ان دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا۔مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت مسیح موعود نے دیا تو انہوں نے اس پر بہت کچھ نا امیدی کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاوے گا اور خواہ مخواہ بنسی کا موجب ہو گا مگر حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ مضمون بالا رہا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی اور تشفی بھی دلائی مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ بالله لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔آخر حضرت مسیح موعود کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دیئے گئے تا کہ لوگ ان کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود کو بھی کہا جا سکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ بالا رہا“ اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جاوے۔آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا۔مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے کہ لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا گویا ان پر سحر کیا ہوا ہے وقت مقررہ گزر گیا مگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔آخر لوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود کا ختم کیا گیا۔مخالف اور موافق سب نے بالا تفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی مگر اس زبردست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کر دیا