تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 862

تذکار مہدی — Page 334

تذکار مهدی ) 334 روایات سید نا محمود اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا۔اس صورت میں اس پیشگوئی کو جو اہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لا سکتا ہے۔آئینہ صداقت۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 181-182) آریوں کے جلسہ میں مضمون پڑھا جانا اوّل تو سوال یہ ہے کہ جہاں گالیاں دی جاتی ہیں وہاں انسان جائے ہی کیوں۔یہاں مخالف لوگ تقریریں کرتے ہیں اور بعض احمدی سننے چلے جاتے ہیں ان کا وہاں جانا ہی بتا تا ہے کہ وہ حقیقی غیرت کے مقام پر نہیں ہیں۔کیا کبھی کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ فلاں مقام پر میرے باپ کو گالیاں دی جا رہی ہیں میں جا کر سن آؤں یا کوئی کسی کو اطلاع دے کہ فلاں جگہ تمہاری ماں کو گالیاں دی جارہی ہیں اور وہ جھٹ جوتا ہاتھ میں پکڑ کر بھاگ اٹھے کہ سنوں کیسی چٹخارے دار گالیاں دی جاتی ہیں اگر تمہارے اندر حقیقی غیرت ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا اپنے امام اور دوسرے بزرگوں کے متعلق گالیاں سننے کے لئے جاتے ہی کیوں ہو۔تمہارا وہاں جانا بتاتا ہے کہ تمہارے اندر غیرت نہیں یا ادنی درجہ کی غیرت ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آریوں نے لاہور میں ایک جلسہ کیا اور آپ سے خواہش کی کہ آپ بھی مضمون لکھیں جو وہاں پڑھا جائے آپ نے فرمایا ہم ان لوگوں کی عادت کو جانتے ہیں یہ ضرور گالیاں دیں گے اس لئے ہم ان کے کسی جلسہ میں حصہ نہیں لیتے۔مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لاہور کے بعض دوسرے لوگ جن کی خوشامد وغیرہ کر کے آریوں نے انہیں آمادہ کر لیا ہوا تھا کہنے لگے چونکہ اب ملک میں سیاسی تحریک شروع ہوئی ہے اس لئے آریوں کا رنگ بدل گیا ہے آپ ضرور مضمون لکھیں اس سے اسلام کو بہت فائدہ ہوگا۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکراہ کے باوجود اُن کی بات مان لی اور مضمون رقم فرمایا اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا، میں بھی گیا اور بھی بعض دوست گئے تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں سب باتیں محبت اور پیار کی تھیں اس کے بعد ایک آریہ نے مضمون پڑھا جس میں شدید گالیاں رسول کریم ﷺ کو دی گئی تھیں اور وہ تمام گندے اعتراضات کئے گئے تھے جو عیسائی اور آریہ