تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 862

تذکار مہدی — Page 132

تذکار مهدی ) پاس کبھی کوئی نہیں آیا۔132 روایات سید نا محمودی پس اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے بندے شروع میں چھوٹے ہی نظر آیا کرتے ہیں اور دنیا کے ظاہر بین لوگ انہیں حقیر سمجھتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی سمجھا گیا۔مگر آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے اور کجا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آخری جلسہ سالانہ پر سات سو آدمی آئے تھے اور کجا یہ کہ جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ میں چار ہزار سے بھی زیادہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔آپ کے زمانہ میں ہندوستان کی ساری قوموں نے آپ کے خلاف شور مچایا اور شدید مخالفت کی مگران تمام مخالفتوں کے باوجود ہندوستان میں بھی ہمارے سلسلہ نے ترقی کی اور بیرونی ممالک میں بھی ہماری جماعتیں قائم ہوئیں چنانچہ آج ہمارے مشن دنیا کے تمام ممالک میں اپنا کام کر رہے ہیں۔انگلینڈ، امریکہ، افریقہ، چین، جاپان، جاوا، سماٹرا اور یورپ کے تمام ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں اور تبلیغ کا کام جاری ہے۔افریقہ کے حبشی تعلیم پارہے ہیں امریکہ اور یورپ کے شرک کرنے والے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا نے اپنے مامور کے ذریعہ ایک نیا ایمان پیدا کر دیا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہیں۔۔۔۔ہماری جماعت کے ایک معزز شخص صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی اسی قسم کے لوگوں میں سے تھے وہ حج کیلئے گھر سے نکلے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت سُن کر قادیان آگئے اور بیعت کر لی۔بیعت کے بعد واپس گھر گئے تو افغانستان کے بادشاہ نے اُن کو سنگساری کی سزا دی صرف اس لیئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کر چکے تھے لوگوں نے بہتیرا زور لگایا کہ آپ اپنے عقیدہ کو بدل لیں مگر وہ نہ مانے کیونکہ ان پر صداقت کھل چکی تھی۔آخر بادشاہ نے اُن کو زمین میں گاڑ کر سنگسار کرا دیا اور نہایت بے رحمی سے شہید کیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی اور خدا کی راہ میں اپنی جان دے دی۔سنگساری سے پہلے ایک وزیر اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم اپنے دل میں بے شک وہی عقائد رکھو مگر صرف زبان سے ہی انکار کر دو مگر انہوں نے فرمایا میں جھوٹ نہیں بول سکتا پس اُن کو شہید کر دیا گیا مگران کے شہید ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی افغانستان میں ہیضہ پھوٹا اور ہزاروں لوگ مر گئے۔اسی