تذکار مہدی — Page 133
تذکار مهدی ) کارمهدی 133 روایات سید نا محمودی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب لوگوں نے مقابلہ کیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ ملک میں سخت طاعون پھوٹے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس کا لقمہ بن گئے مگر اس طاعون کے وقت بھی باوجود یکہ طاعون کا پھوٹنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صداقت کی تائید میں تھا آپ نے مجسم رحم بن کر خدا کے حضور اس عذاب کو ٹلانے کے لئے نہایت گڑ گڑا کر دعائیں کیں اور اس قدر گریہ وزاری کی کہ مولوی عبدالکریم صاحب جو مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ میں رہتے تھے فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی اور وہ آواز اتنی درد ناک تھی جیسے کوئی عورت دردزہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رو رو کر خدا کے حضور میں دعا فرما رہے ہیں کہ اے اللہ ! اگر تیرے سارے بندے مرگئے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔یہ چیز بھی آپ کی صداقت کے لئے نہایت زبر دست دلیل ہے یہ آپ ہی کی تائید کے لئے اللہ تعالیٰ نے طاعون بھیجی اور آپ کے دل میں ہی رحم آگیا اور دعائیں کرنا شروع کر دیں۔( خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کے لئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے، انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 510 تا 514) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے حق میں دعائیں دوسرا انشراح مجھے اس وقت پیدا ہوا جب ڈرمشین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔اس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے اور اس کا منانا اس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری بچھپیں سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالی کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نا مناسب نہیں اور اس خوشی میں میں بھی شریک ہوسکتا ہوں اور میں نے سمجھا کہ گواپنی ذات کے لئے اس کے منائے جانے کے متعلق مجھے انشراح نہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صلى الله کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہو گیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم علی نے ایک مرتبہ ایک صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے اس کے ہاتھوں میں کسری کے کڑے ہیں۔چنانچہ جب ایران فتح ہوا اور وہ کڑے جو کسری دربار کے موقع پر پہنا کرتا تھا غنیمت میں آئے تو حضرت عمرؓ نے اس صحابی کو بلایا اور باوجود یکہ اسلام میں مردوں کے لئے