تذکار مہدی — Page 131
تذکار مهدی ) 131 روایات سید نا محمود کے دعوی کو سن کر آپ کی زیارت کے لئے قادیان آنے کا ارادہ کرتے تھے اُن کو بھی روکا جاتا تھا اور اگر وہ نہ رکھتے تھے تو انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں، ان کو قسم قسم کی مصیبتوں اور دُکھوں میں مبتلا کر دیا جاتا تھا مگر ان تمام حالات کی موجودگی میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔یہ الہام آپ کو اس وقت ہوا جب آپ کو ایک آدمی بھی نہ مانتا تھا پھر یہ الہام ہوا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس زمانہ میں مخالفت کا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نوکر پیرا نامی جو اتنا بے وقوف تھا کہ وہ سالن میں مٹی کا تیل ملا کر پی جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو کبھی کبھی کسی کام کے لیئے بٹالہ بھیج دیا کرتے تھے ایک دفعہ اس کو بٹالہ بھیجا گیا تو وہاں اس کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ملے جو اہل حدیث کے لیڈر مانے جاتے تھے اور بڑے بھاری مولوی سمجھے جاتے تھے۔ان کا کام ہی یہی تھا کہ وہ ہر اُس شخص کو جو بٹالہ سے قادیان آنے والا ہوتا تھا ملتے اور کہتے تھے کہ اس شخص ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) نے دُکان بنائی ہوئی ہے اور جھوٹا ہے تم قادیان جا کر کیا کرو گے مگر اس کے باوجود لوگ قادیان آ جاتے تھے اور مولوی صاحب کے روکنے سے نہ رکتے تھے۔اس دن مولوی صاحب کو اور تو کوئی آدمی نہ ملا پیرا ہی مل گیا اس کے پاس جا کر وہ کہنے لگے کہ پیرے ! تمہیں اس شخص کے پاس نہیں رہنا چاہیئے تو کیوں اپنا ایمان خراب کرتا ہے۔وہ بے چارہ ان کی اس قسم کی باتیں تو نہ سمجھ سکا لیکن اس نے اتنا ضرور سمجھا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے پاس رہنا ٹھیک نہیں ہے۔جب مولوی صاحب ساری بات کر چکے تو وہ کہنے لگا مولوی صاحب! میں تو بالکل جاہل ہوں اور اس قسم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ آپ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب کرے ہیں مگر ایک بات تو مجھے بھی نظر آتی ہے کہ آپ ہر روز بٹالہ میں چکر لگا لگا کر لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ کوئی شخص قادیان نہ جایا کرے اور دوسرے علاقوں سے آنے والے آدمیوں کو بھی روکتے ہیں اور ورغلاتے رہتے ہیں مگر مجھے تو صاف نظر آتا ہے کہ خدا اُن کے ساتھ ہے آپ کے ساتھ نہیں کیونکہ آپ کی ساری کوششوں کے باوجود لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پیدل چل کر قادیان پہنچ جاتے ہیں مگر آپ کے