تذکار مہدی — Page 47
تذکار مهدی ) 47 روایات سید نا محمودی کے عادی تھے۔اس وقت ہمارے ایک دوست سٹیج پر میرے پاس ہی بیٹھے ہیں۔وہ سنایا کرتے ہیں۔ابتدائے ایام میں یعنی اپنی ابتدائی زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے والد صاحب مقدمات کی پیروی کے لئے بھیج دیا کرتے تھے۔ایک اہم مقدمہ چل رہا تھا جس کی کامیابی پر خاندانی عزت اور خاندان کے وقار کا انحصار تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے والد صاحب نے لاہور بھیج دیا کہ وہاں جا کر پیروی کریں چنانچہ آپ لمبا عرصہ جو مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے قریب تھا لا ہور رہے۔قادیان کے سید محمد علی شاہ صاحب لاہور میں رہتے تھے ان کے پاس آپ ٹھہرے اور انہوں نے اپنے ایک دوست کی گاڑی کا انتظام کر دیا کہ جب چیف کورٹ کا وقت ہو آپ کو وہاں پہنچا آیا کرے اور جب وقت ختم ہو جائے آپ کو لے آئے۔یہ بیان کرنے والے دوست کے والد صاحب کی گاڑی تھی۔کئی دنوں کے انتظار کے بعد جب فیصلہ سنایا گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی سید محمد علی شاہ صاحب کے گھر آگئے۔سید صاحب نے پوچھا۔آج آپ گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی آگئے؟ آپ بڑے خوش خوش تھے۔فرمانے لگے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا ہے اس لئے میں پہلے ہی آ گیا۔سید صاحب نے آپ کی خوشی کو دیکھ کر سمجھا مقدمہ میں کامیابی ہوئی ہوگی مگر جب پوچھا کہ کیا مقدمہ جیت گئے؟ تو آپ نے فرمایا۔مقدمہ تو ہار گئے مگر اچھا ہوا جھگڑا تو مٹا، اب ہم اطمینان سے خدا تعالیٰ کو یاد کر سکیں گے۔یہ سن کر سید صاحب بہت ناراض ہوئے۔اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی نہیں کیا تھا اور جب آپ نے دعوی کیا تو بھی کچھ عرصہ تک سید صاحب مخالف رہے۔انہوں نے ناراض ہو کر کہا۔اس مقدمہ کے ہار جانے سے تو آپ کے خاندان پر تباہی آجائے گی اور آپ خوش ہو رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ نے کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔تو دعوی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ حالت تھی۔آپ دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔آپ فرماتے اسی خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب تک اس نے مجھے مجبور نہیں کر دیا کہ دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوں اس وقت تک میں نے دنیا کی طرف توجہ نہ کی۔گویا روحانی طور پر آپ غار حرا میں رہتے تھے جس میں رہتے ہوئے آپ کو دنیا کی کوئی خبر نہ تھی اور دنیا کو آپ کی کوئی خبر نہ تھی۔الفضل یکم جنوری 1935 ء جلد 22 نمبر 79 صفحہ 3)