تذکار مہدی — Page 48
تذکار مهدی ) با قاعدہ نماز پڑھنے کی عادت 48 روایات سید نا محمودی سید منظور علی شاہ صاحب کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ اوائل کے واقف تھے۔ان کے تعلقات ملک غلام محمد صاحب کے والد صاحب کے ساتھ بہت گہرے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔شاہ صاحب ایام جوانی میں لاہور نوکر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لاہور جاتے تو ان کے پاس ٹھہرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقدمہ ہارنے کا جو واقعہ لکھا ہے اس میں انہی کا ذکر ہے۔آپ مقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے لاہور گئے ہوئے تھے اور روزانہ چیف کورٹ میں جاتے تھے۔ایک دن خوش خوش واپس آئے تو شاہ صاحب نے کہا کیا مقدمہ جیت آئے؟ آپ نے فرمایا۔مقدمہ تو نہیں جیتا مگر اچھا ہوا حکم سنا دیا گیا کیونکہ وہاں جانے کی وجہ سے نمازیں پڑھنے میں تکلیف ہوتی تھی۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی دعوی نہ کیا تھا۔شاہ صاحب نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔آپ کے باپ کا اتنا بڑا نقصان ہو گیا ہے اور آپ خوش ہو رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ نہایت ابتدائی زمانہ سے شاہ صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے اور بہت محبت رکھتے تھے۔آج ان کی پوتی کی شادی ہے۔“ ( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 455 ) سیالکوٹ ملا زمت میں حکمت خدا تعالیٰ جو آپ کو سیالکوٹ لے گیا تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کو گھر میں کھانے کو نہ ماتا تھا اور معاش کے لئے آپ کو کسی نوکری کی تلاش تھی۔خدا کے فضل سے گورنمنٹ ہمارے خاندان کو رؤسائے پنجاب میں شمار کرتی ہے۔ہماری جائیداد کو دیکھ لو قادیان کے ہم مالک ہیں اور اُن لوگوں سے قبل جنہوں نے سکونت کی غرض سے ہم سے زمین خریدی کسی کی چپہ بھر زمین بھی وہاں نہ تھی۔اس کے علاوہ تین اور گاؤں ہماری ملکیت ہیں اور دو میں تعلقہ داری ہے۔پس سوچنا چاہئے کہ اگر مرزا صاحب نے نوکری کی تو ضرور اس میں کوئی اور غرض ہوگی آپ کے دل کی یا خدا تعالیٰ کی اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں دونوں کی ایک ایک غرض تھی۔حضرت مرزا صاحب کی ایک تحریر ملی ہے جو آپ نے والد صاحب کے نام لکھی تھی۔آپ کے والد صاحب