تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 862

تذکار مہدی — Page 46

تذکار مهدی ) 46 روایات سید نا محمود کسی نے کوئی ایسی حرکت کی ہے تو میں اُسے سزا دوں گا تم بتاؤ کہ کس نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر پر گیا تھا اور میں نے وہاں سجدہ کرنا چاہا لیکن آپ کے آدمیوں نے روک دیا۔میں نے کہا یہ چیز تو ہمارے مذہب میں ناجائز ہے اسی لئے انہوں نے آپ کو روکا ہے۔وہ کہنے لگا آپ کے مذہب میں بیشک ناجائز ہے مگر ہمارے مذہب میں تو نا جائز نہیں۔اس سے ان کی محبت کا پتہ لگتا ہے ان بھائیوں نے خود مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہماری دوستی تھی اور ہم اکثر ان کے پاس آیا جایا کرتے تھے ایک دفعہ آپ کے دادا نے جب ہم اپنے باپ کے ساتھ آئے ہمیں کہا کہ میں نے تو غلام احمد ( مسیح موعود ) کو بہت سمجھایا ہے مگر اس کی اصلاح نہیں ہوتی یہ سارا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے بڑا ہو کر کیا کرے گا؟ کیا یہ اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر جئے گا؟ میرا خیال ہے کہ تم اس کے ہمجولی ہو اور ہم عمر ہو تم جا کر اس کو سمجھاؤ شاید تمہارے کہنے سے سمجھ جائے۔چنانچہ ہم آپ کے پاس گئے اور ان کو سمجھانا شروع کیا جب ہم بات ختم کر چکے تو آپ نے کہا والد صاحب تو یونہی گھبراتے ہیں میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔وہ سکھ سنایا کرتے تھے کہ ہم نے جب آپ کا یہ جواب آپ کے والد صاحب کو جا کر سنایا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا غلام احمد بھی جھوٹ نہیں بولتا اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کرلی ہے تو وہ ضرور سچ کہتا ہوگا۔پس مؤمن صرف اللہ کی نوکری کرتا ہے عام طور پر لوگ سترہ اٹھارہ روپیہ پر فوجوں میں بھرتی ہوتے ہیں اور اسی حقیر رقم کے لئے اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں تو کیا ایک مومن اسلام کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار نہ ہوگا ؟ ہوگا اور ضرور ہوگا کیونکہ مومن جانتا ہے کہ وہ خدا کا مینار ہے جس کی روشنی میں دنیا کی تمام تاریکیاں اور ظلمتیں دُور ہو جاتی ہیں۔(انصاف پر قائم ہو جاؤ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 604،603) والد صاحب کے مقدمات کی پیروی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے والد کے دوستوں میں سے کئی ایسے تھے جو سالہا سال کی ملاقات کے بعد یہ معلوم نہ کر سکتے تھے کہ مرزا غلام قادر صاحب کے سوا ان کا کوئی اور بیٹا بھی ہے کیونکہ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ گوشتہ تنہائی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے