تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 862

تذکار مہدی — Page 723

تذکار مهدی ) 723 روایات سید نا محمود کو پتہ بھی نہ لگے کتنی چھوٹی بات ہے مگر نتیجہ کتنا خطرناک ہے۔بات یہ ہے کہ جب انسان کسی کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولتا ہے تو اس کا ادب دل سے نکل جاتا ہے اور جب ادب نہ ہو تو محبت بھی کم ہو جاتی ہے اور محبت کے کم ہونے کے ساتھ ایمان بھی کم ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایمان نہ تھے۔مگر ایمان کو آپ سے وابستہ کر دیا گیا تھا۔مومن کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا۔(خطبات محمود جلد 7 صفحہ 324 ) مؤمن در حقیقت زیادہ ترغیب کا منتظر نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے صرف اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور اس اشارہ کو سمجھ کر وہ ایسے جوش سے کام کرتا ہے کہ بعض لوگوں کو دیوانگی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔اسی لئے جتنے کامل مؤمن دنیا میں ہوئے انہیں لوگوں نے پاگل کہا ہے۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے میرے اُستاد ہوا کرتے تھے مولوی یار محمد صاحب ان کا نام تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے ان کے دماغ میں کچھ نقص ہو گیا تھا مگر یہ نقص اُن کا اس رنگ کا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا محبوب اور اپنے آپ کو عاشق سمجھتے تھے اسی عشق کی وجہ سے وہ خیال کرنے لگے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پسر موعود اور مصلح موعود بنادیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ بات کرتے کرتے بعض دفعہ جوش میں اپنی رانوں کی طرف یوں ہاتھ کو لاتے جس طرح کسی کو بلا یا جاتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی رنگ میں جوش سے کچھ کلمات فرما رہے تھے کہ مولوی یار محمد صاحب کود کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا بیٹھے بعد میں کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ تو وہ کہنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں اشارہ کیا تھا اور یہ اشارہ میری طرف تھا کہ تم آگے آجاؤ چنانچہ میں گو دکر آگے آگیا۔- - یہ دیوانگی تھی مگر بعض رنگ کی دیوانگی بھی اچھی ہوتی ہے آخر ان کی یہ دیوانگی بغض کی طرف نہیں گئی بلکہ محبت کی طرف گئی پس محبت کا دیوانہ غیر اشارہ کو بھی اپنے لئے اشارہ سمجھ لیتا ہے پھر جو قوم خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرنے والی ہو وہ صحیح اشارہ کو کیوں نہیں سمجھ سکتی۔کیا ہماری جماعت کے دیوانوں کی وہ محبت جو وہ سلسلہ سے رکھتے ہیں مولوی یار محمد صاحب جتنی بھی نہیں