تذکار مہدی — Page 722
تذکار مهدی ) 722 نامحمودی روایات سیّد نا محمود وہ نماز بھی تو ڑ سکتا ہے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ ایسی حالت میں آواز دی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے بھی نماز توڑ دی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال قرآن کریم کی اس آیت سے کیا تھا کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال آیت (25) امام کے سامنے اپنی آواز نیچی رکھو 色 ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 279-278) | دوسری بات یہ فرمائی۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (الحجرات : 3 ) اگر رسول بیٹھا ہے۔اور کوئی بات بیان کرے تو اس کے سامنے ادب سے بات کی جائے اور اونچی آواز میں بات نہ کی جائے۔عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بات کرے اور اس پر اعتراض ہو کہ اپنی بات کو واضح کیجئے تو جواب میں وہ شخص اپنی بات کو واضح کرنے اور کلام پر زور دینے کے لئے زور سے بولتا ہے۔اور یہ صورت ایک مباحثہ کی ہو جاتی ہے۔اس کے متعلق سکھلایا کہ اگر رسول تمہاری بات واضح کرنے کے لئے سوال کرے تو بلند آواز سے نہ بولو۔آپ کی آواز سے تمہاری آواز نیچی رہے۔زور اس لئے دیا جاتا ہے کہ بات مانی جائے۔یہ طریق درست نہیں رسول اور اس کا نائب مشورہ کو مانتے بھی ہیں۔مجھے تو اس سات سال کے عرصہ میں یاد نہیں کہ احباب نے مشورہ دیا ہو اور میں نے اس مشورہ کو رد کر دیا ہو گو ہمیں حق ہے کہ ہم رد کر دیں۔تم اپنی تحکم کی صورت اختیار نہ کرو جس سے ظاہر ہو کہ تم حاکم اور وہ محکوم ہیں۔بلکہ اپنی آواز ان کی آواز سے تو بہر حال اونچی نہیں ہونی چاہئے۔اگر رسول یا اس کا نائب بات کرنے میں بلند آواز استعمال کریں تب بھی تمہیں آواز نیچی ہی رکھنی چاہئے۔حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ بعض اوقات بات کرتے ہوئے اس قدر بلند آواز سے بولتے تھے کہ مدرسہ (احمدیہ ) کے صحن میں آپ کی آواز سنائی دیا۔کرتی تھی پس اس حالت میں بھی تمہاری آواز نیچی ہی رہے۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو آن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جا ئیں اور تم