تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 862

تذکار مہدی — Page 682

تذکار مهدی ) 682 روایات سید نا محمودی کروں۔میں سارا مہینہ پیسے جمع کرتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے قادیان بھی ضرور جانا ہے مگر پیدل جاؤں گا تو پیسے جمع کروں گا اس لئے کہ حضرت صاحب خدا تعالیٰ کے بڑے مقرب اور مسیح موعود ہیں اُن کو نذرانہ دینا ہے تو سونا دینا ہے مگر سونا کبھی نہیں ہوتا تھا۔باوجود یکہ میں پیدل آتا تھا پھر بھی روپے بنتے تھے سونا نہیں بنتا تھا اس وقت وہ تحصیلدار ہو گئے تھے مگر ریاستوں میں تحصیلداروں کی تنخواہ بھی کم ہوتی ہے۔بہر حال اُن کی تنخواہ اُس وقت اتنی تھی کہ وہ قربانی کر کے سونا بنا سکتے تھے ) انہوں نے یہ کہا اور پھر پیچکی لی اور پھر چینیں مار کر رونے لگ گئے۔پھر کہنے لگے ”ساری عمر جوڑ جوڑ کے ایس انتظار وچ رہے کہ حضرت صاحب نوں ملاں گے تے سونا نذرانہ دیاں گے۔جب تک حضرت صاحب رہے سونا نہیں لھیا۔جدوں سونالھیا تے حضرت صاحب نہیں رہے، پھر مجھے پتا لگا کہ اس شخص کے دل میں کتنا اخلاص اور کتنی محبت تھی۔تو چاہئے کہ تم بھی صحابہ والا رنگ اختیار کرو، زیادہ سے زیادہ ربوہ آؤ اور زیادہ سے زیادہ مجھ سے مل کر اور دوسرے دوستوں سے مل کر کوشش کرو کہ تمہارا علم بڑھے۔اور پھر سلسلہ کی کتابیں خریدو اور ان کو پڑھو۔ہمارے سلسلہ کی کتابوں میں علم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں اور سلسلہ کی دوسری کتابیں پڑھ لے اس کے مقابلہ میں دنیا کا کوئی آدمی نہیں ٹھہر سکتا۔(متفرق امور، انوار العلوم جلد 25 صفحہ 216 تا217) مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات پیدائش دنیا کے نزدیک ایک ہی نکتہ رکھتی ہے یعنی خوشی کا کسی کی پیدائش پر تھوڑے لوگ خوش ہوتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر زیادہ لیکن آسمان کے فرشتے کسی کی پیدائش پر اگر ان کے لئے رونا ممکن ہو تو آنسو بہاتے یا دوسرے الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار کرتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر خواہ دنیا کے لوگ خوشی نہ منائیں فرشتے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں یہی حال موت کا ہے موت کے وقت بھی دنیا کے ہر انسان کے رشتہ دار اور دوست تھوڑے ہوں یا بہت رنج محسوس کرتے ہیں۔ایک ڈاکو مرتا ہے تو اس کے بیوی خوش نہیں آتے کہ ہمارا باپ ڈا کو تھا، قاتل تھا، فتنہ وفساد پھیلاتا تھا، اچھا ہوا کہ وہ مر گیا بلکہ اُن کی اسی طرح چیچنیں نکل جاتی ہیں جس طرح بڑے سے بڑے محسن اور نیک باپ کے بچوں کی اُس کی وفات پر نکل جاتی ہیں اور وہ دنیا کے لئے اس کی موت کو ایسا ہی خطرناک سمجھتے ہیں جیسے کسی بڑے سے بڑے مصلح کی وفات کو بلکہ شاید اس سے زیادہ۔