تذکار مہدی — Page 683
تذکار مهدی ) 683 روایات سید نامحمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی تو چونکہ ان کے دور حکومت میں امن قائم ہوا تھا۔اور وہ طوائف الملو کی جو پہلے پھیلی ہوئی تھی جاتی رہی تھی اس لئے سکھوں کے علاوہ جو ان کے ہم مذہب اور ہم قوم تھے ہندو اور مسلمان بھی عام طور پر یہ سمجھتے تھے کہ اب ان کی وفات کے بعد پھر فتنے پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔اس لئے لوگوں میں ایک کہرام مچا ہوا تھا اور ہر شخص کے آنسو رواں تھے۔جن کے زیادہ گہرے تعلقات تھے وہ چیچنیں مار رہے تھے۔فرماتے تھے کہ کوئی چوہڑا لا ہور کے قریب سے گزرا اور اس نے جب دیکھا کہ ہر شخص ماتم کر رہا ہے تو اس نے کسی سے پوچھا کہ آج لاہور والوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس کو دیکھو رو رہا ہے۔جس کو دیکھو رو رہا ہے اس نے کہا۔تمہیں پتہ نہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے ہیں۔وہ بڑی حیرت کا اظہار کر کے کہنے لگا۔اچھا! رنجیت سنگھ مر گیا ہے اور اس پر لوگ رور ہے ہیں۔پھر کہنے لگا۔”باپو ہوراں جیسے مر گئے تے رنجیت سنگھ بیچار اکس شمار وچ۔یعنی جب میرے باپ جیسا آدمی مر گیا تو رنجیت سنگھ بھلا کس شمار میں تھا۔اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ذریعہ بے شک امن قائم ہوا تھا۔مگر چونکہ اس چوہڑے کا جو تعلق اپنے باپ سے تھا وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نہیں تھا۔اور سیاسی فوائد کو وہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا اس لئے اس کے نزدیک سب سے بڑی رنج کی بات اپنے باپ کی وفات تھی۔اسی طرح کئی بادشاہ بڑے ظالم ہوئے ہیں۔مثلاً ہلاکو خاں بڑا ظالم مشہور ہے۔مگر جب ہلاکومرا ہوگا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی بیوی اور بچوں کو دوسروں کی بیویوں اور بچوں سے کم صدمہ ہوا ہوگا۔یقینا انہیں ہلاکو خاں کی وفات پر ویسا ہی صدمہ ہوا ہوگا۔جیسے نوشیروان عادل کی وفات پر اس کے بیوی بچوں کو ہوا تھا۔حالانکہ نوشیرواں عدل کی وجہ سے مشہور ہے اور ہلاکو خاں ظلم کی وجہ سے مگر دونوں کے بیوی بچوں کو یکساں صدمہ ہوا ہوگا۔بلکہ ممکن ہے ہلاکو خان کی بیوی بچوں کو احساسات کے زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے نوشیرواں کے بیوی بچوں سے بھی زیادہ صدمہ ہوا ہو۔مگر آسمان پر یہ بات نہیں جس طرح پیدائش پر دنیا میں سارے بندے خوش ہوتے ہیں گو کسی کی پیدائش پر تھوڑے لوگ خوش ہوتے ہیں اور کسی کی پیدائش پر زیادہ لوگ خوش ہوتے ہیں مگر آسمان پر یہ بات نہیں۔وہاں کسی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کسی کی پیدائش پر رنج کا اظہار کیا جاتا ہے۔اسی طرح موت کا حال ہے۔موت پر سب لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں گو کسی کی موت پر