تذکار مہدی — Page 610
تذکار مهدی ) 610 روایات سید نامحمود نہیں آتی کہ تو خدا کے مقابلہ میں کس کو پیش کر رہا ہے۔خدا کے مقابلہ میں تو مرزا صاحب کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔خدا کے مقابلے میں تو نوح اور ابراہیم اور موسٹی کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔اگر وہ خواب خدا کی طرف سے تھی۔تو اے نالائق تو اب اسے رد کیوں کرنے لگا ہے اور کیوں اپنے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنے لگا ہے۔مجھے خوب یاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جنہوں نے مولوی صاحب (خلیفہ اول رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے مجھے مانا ہے۔وہ مولوی صاحب سے عقیدت رکھا کرتے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں۔تو وہ بھی احمدی ہو گئے اور انہوں نے بیعت کر لی اور ایک وہ طبقہ ہے۔جو تعلیم یافتہ ہے اس نے جب دیکھا کہ ایک منظم جماعت موجود ہے۔تو اس نے کہا آؤ ہم بھی اس جماعت میں داخل ہو جائیں تا کہ ان کی وجہ سے سکول اور کالج کھولے جائیں اور تیسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے دلائل اور نشانات کو دیکھ کر میری صداقت کو تسلیم کیا ہے۔میں صرف ان لوگوں پر اعتبار کرتا ہوں۔جو میرے الہامات اور نشانات کو دیکھ کر مجھ پر ایمان لائے ہیں۔جنہوں نے مولوی صاحب کی وجہ سے مجھے مانا ہے۔وہ اگر مولوی صاحب کی کوئی ایسی بات دیکھیں گے جو انہیں نا پسند ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ وہ مرتد ہو جائیں۔اسی طرح وہ لوگ جو اس لئے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں کہ یہ ایک منظم جماعت ہے۔ہم مل کر سکول اور کالج کھولیں گے وہ جس دن یہ دیکھیں گے کہ میرے بچے متبع کسی حکمت کے ماتحت سکولوں اور کالجوں پر کسی اور چیز کو تر جیح دے رہے ہیں۔تو ہو سکتا ہے کہ وہ مرتد ہو جائیں۔میں صرف ان کو ترجیح دیتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے میرے دلائل اور نشانات کو دیکھ کر مجھ پر ایمان لائے ہیں۔جو لوگ مولوی صاحب کی وجہ سے ایمان لائے ہیں۔ان کا ایمان مولوی صاحب پر ہے مجھ پر نہیں۔جولوگ تنظیم اور جتھہ بندی کو دیکھ کر جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔ان کا ایمان بھی واسطے کا ایمان ہے اور مجھے واسطے کے ایمان کی ضرورت نہیں۔میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔میری جماعت میں بچے طور پر وہی لوگ داخل ہیں۔جنہوں نے خدا کے نشانوں کی وجہ سے اور اس کی رضا کے لئے مجھے قبول کیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت تک جن لوگوں نے اس فتنہ میں حصہ لیا ہے۔وہ نہایت ہی ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہیں۔ایک بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی کہ