تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 862

تذکار مہدی — Page 611

تذکار مهدی ) 611 روایات سید نا محمودی جماعت کے صاحب علم اور تقویٰ اور صاحب کشوف لوگوں میں سے کوئی شخص فتنہ میں مبتلا ہوا ہو سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے پاؤں پر کھڑے رہے۔الفضل 31 اگست 1956 ء جلد 45/10 نمبر 204 صفحہ 3 | آنحضرت ﷺ کی عزت کے قیام کی دھن 6 عارضی غیرت بھی دنیا میں بڑے بڑے کام کرا لیتی ہے جیسے بغداد کے برائے نام بادشاہ سے کرا دیا مگر یہ غیرت ایمان کی علامت نہیں۔اگر ایمانی غیرت ہوتی تو اسلام کے دن اُسی وقت پھر جاتے مگر انہوں نے عورت کو چھڑایا اور پھر سو گئے۔ایسی عارضی غیرت سے اسلام زندہ نہیں ہو سکتا۔اسلام اُس غیرت سے زندہ ہوتا ہے جو کبھی مٹ نہ سکے۔اُس آگ سے زندہ ہوسکتا ہے جو بھی سرد نہ ہو سکے جب تک کہ سارے جہاں کو جلا کر راکھ نہ کر دے۔اُس زخمی دل کبھی سے ہو سکتا ہے جو کبھی اند مال نہ پائے ، اُسے وہ دیوانہ زندہ کر سکتا ہے جس کی دیوانگی پر ہزار فرزانگیاں قربان کی جاسکیں۔یہی دیوانگی پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔اور اسی روح کو آپ کی زندگی میں ہم نے مشاہدہ کیا۔آپ کے اندرسوتے ، جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے ہم نے دیکھا کہ ایک آگ تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ محمد رسول ﷺ کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کیا جاسکے۔آج نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم نے کی ہتک کی۔مگر ہمیں تو معلوم ہے کہ آپ کو کس طرح ہر وقت آنحضرت ﷺ کی عزت قائم کرنے کی دھن لگی رہتی تھی۔مجھے ایک بات یاد ہے جو گو اُس وقت تو مجھے بُری ہی لگی تھی مگر آج اس میں بھی ایک لذت محسوس کرتا ہوں۔ہمارے بڑے بھائی میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ایک دفعہ باہر سے یہاں آئے۔ابھی تک اُنہوں نے بیعت کا اعلان نہیں کیا تھا۔میں اُن سے ملنے گیا میرے بیٹھے بیٹھے ہی ڈاک آئی۔اُس زمانہ میں توہینِ مذاہب کے قانون کا مسودہ تیار ہو رہا تھا۔اس سے بات چل پڑی تو مرزا سلطان احمد صاحب کہنے لگے اچھا ہوا بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے۔(وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے ) ورنہ سب سے پہلے وہ جیل جاتے کیونکہ اُنہوں نے حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین کو برداشت نہیں کرنا تھا۔اُس وقت تو یہ بات مجھے بُری لگی