تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 862

تذکار مہدی — Page 609

تذکار مهدی ) 609 روایات سید نا محمودی مجھے خود سنایا کہ ایک دفعہ ہمارے علاقہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب آگئے۔میرے بعض دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آج کل بڑا عمدہ موقعہ ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں۔آپ بھی چلیں اور ان کی کچھ باتیں سن لیں وہ کہنے لگے میں نے پہلے تو انکار کیا۔مگر وہ اصرار کرتے چلے گئے اور آخر ان کے اصرار پر میں مولوی صاحب کے پاس چلا گیا مولوی صاحب آدھ گھنٹہ تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف دلیلیں دیتے رہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا۔مولوی صاحب آپ بے کار گلا پھاڑ رہے ہیں۔آپ دلیلیں دے رہے ہیں اور میں نے مرزا صاحب کا منہ دیکھا ہوا ہے۔ان کا منہ دیکھنے کے بعد میں ان کو جھوٹا کہہ ہی نہیں سکتا۔آپ خواہ رات اور دن دلیلیں دیتے رہیں۔آپ کی ان دلیلوں کا اثر مجھ پر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ آپ کی باتیں سب سنی سنائی ہیں اور میری دیکھی ہوئی ہیں۔میں نے جس شخص کے متعلق تجربہ کر لیا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔اگر اس کے متعلق آپ لاکھ دلیلیں بھی دیں گے۔تو میں آپ کو ہی جھوٹا کہوں گا انہیں جھوٹا نہیں کہ سکتا یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا (الانفال: 46) اے مومنو جب دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو۔تو اگر تم نے دلیل سے مانا ہے۔تو تمہارے لئے گھبرانے کی کونسی بات ہے۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر خواب دیکھ کر ایمان لائے تھے۔اب اگر کوئی شخص کسی مولوی کی تقریر سن کر آپ کو چھوڑ دیتا ہے۔تو وہ خود اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ شیطان کا چیلا تھا جس نے اسے غلط راستہ پر چلا دیا۔اسی طرح ہماری جماعت میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں۔جو خوا ہیں دیکھ کر میری بیعت میں شامل ہوئے۔اب اگر کوئی شخص کسی نالائق بھکاری اور فقیر کی باتیں سن کر دھوکا میں آجاتا ہے یا اس لئے دھوکا میں آجاتا ہے کہ خلیفہ اول کا بیٹا ایسا کہہ رہا ہے۔تو ہر انسان اسے کہے گا کہ اے بیوقوف کیا تجھے خدا نے نہیں کہا تھا کہ یہ شخص سچا ہے۔اے بیوقوف اگر صداقت وہی ہے جس کا تو اب اظہار کر رہا ہے تو تو نے اپنی خواب کیوں شائع کرائی تھی۔اے کذاب جب تو نے مجھے یا الفضل والوں کو خواب بھجوائی تھی۔تو صرف اس لئے بھجوائی تھی کہ تجھے یقین تھا کہ یہ خواب تجھے خدا نے دکھلائی ہے۔اے کذاب اب تو اپنے خدا کو جھوٹا کہتا ہے اور خلیفہ اول کی اولا د کو سچا سمجھتا ہے۔خلیفہ اول تو خود خدا کے غلام تھے۔تجھے شرم