تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 862

تذکار مہدی — Page 555

تذکار مهدی ) 555 روایات سید نا محمود ) اصل میں پہلے کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور ریو یو بعد کا مضمون جو دافع البلاء سے لیا گیا ہے اس کے بعد کا بلکہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ بعد کا ہے اور اس کے لئے میرے پاس خدائے تعالیٰ کے فضل سے یقینی ثبوت ہیں بشرطیکہ کوئی شخص ان پر غور کرے اور ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔اصل واقعہ یہ ہے کہ تریاق القلوب 1899 ء سے لکھی جانی شروع ہوئی اور جنوری 1900 ء تک بالکل تیار ہو چکی تھی لیکن چونکہ ان دنوں میں ایک وفد صیبین جانے والا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عربی رسالہ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی اشاعت رک گئی 1902ء میں جب کہ کتب خانہ کا چارج حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کے ہاتھ میں تھا آپ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول سے عرض کی کہ بعض کتب بالکل تیار ہیں لیکن اس وقت تک شائع نہیں ہو ئیں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کریں کہ ان کو شائع کرنے کی اجازت فرما دیں چنانچہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا اور حضور نے اجازت دے دی تریاق القلوب ساری چھپ چکی تھی اور صرف ایک صفحہ کے قریب مضمون حضرت اقدس کے ہاتھ کا لکھا ہوا کاتب کے پاس بچا پڑا تھا اس کے ساتھ حضرت اقدس نے ایک صفحہ کے قریب مضمون اور بڑھا دیا اور کل دو صفحہ آخر میں لگا کر کتاب شائع کر دی گئی۔(حقیقۃ النبوۃ (حصہ اوّل)، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 365 ) نبی کی عمر سے مراد اس کی امت کی عمر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جب کتاب ” چشمہ معرفت“ لکھ رہے تھے تو آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ بعض دفعہ اُس کے مضامین دوسروں کو بھی سُنا دیا کرتے تھے ایک دفعہ آپ نے حضرت نوح کی 950 سالہ عمر پر آریوں کے اعتراض کے بارہ میں فرمایا کہ ہم نے اس کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ نبی کی عمر سے مراد اُس کی اپنی عمر نہیں ہوتی بلکہ اُس کی جماعت کی عمر ہوتی ہے۔آپ یہ سُنا ہی رہے تھے کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب تشریف لے آئے۔وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے مگر لوگ نیچریت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔ہوتے ہیں تو ہوں پھر کیا ہوا ہمیں تو جہاں بھی اسلام کی صداقت نظر آئیگی ہم اسے پیش کریں گے خواہ کوئی اُس سے نیچریت کی طرف ہی کیوں نہ مائل ہو جائے۔بہر حال قرآن مجید